آرٹیفیشل انٹیلیجنس ٹیکنالوجی:چین کی امریکہ پر برتری

آرٹیفیشل انٹیلیجنس ٹیکنالوجی:چین کی امریکہ پر برتری کا دعویٰ۔اس وقت ترقی یافتہ اور ترقی پذیر اقوام مصنوعی ذہانت کی ٹیکنالوجی(آرٹیفیشل انٹیلیجنس) میں برتری حاصل کرنے کی کوشش میں مصروف ہیں۔ ایک سابق اعلیٰ امریکی اہلکار کے مطابق اس میدان میں امریکا پر چین برتری حاصل کر چکا ہے۔

تفصیلات

چین کا آرٹیفیشل انٹیلیجنس کے میدان میں امریکا پر برتری کا یہ بیان نکولس شائلان نے دیا ہے جو امریکی ڈیفنس ہیڈ کوارٹرز پینٹاگون کے اولین چیف سوفٹ ویئر آفیسر تھے۔

انہوں نے اس منصب سے استعفیٰ اس بنیاد پر دیا تھا کہ ڈیجیٹل میدان میں پیش رفت اور امریکی فوج کو ٹیکنالوجیکل منتقلی کا عمل بہت سست رفتاری سے جاری ہے۔

اس تناظر میں انہوں نے مشہور جریدے فنانشل ٹائمز سے گفتگو میں واضح کیا کہ اس سست روی سے امریکا کو کئی قسم کے خطرات لاحق ہو سکتے ہیں۔

ٹیکنالوجی میں چین کی ترقی

نکولس شائلان نے فنانشل ٹائمز کو بتایا کہ مصنوعی ذہانت کی جنگ میں امریکا کو چین کی برتری کا سامنا ہے اور عالمی سطح پر چین اس میدان میں بالادستی بڑھاتا جا رہا ہے۔ مغربی انٹیلیجنس ذرائع کا کہنا ہے کہ دنیا کی دوسری بڑی معیشت کے حامل ملک چین کو کئی ابھرتی ٹیکنالوجیز میں سبقت حاصل ہو چکی ہے۔

ان ٹیکنالوجیز میں آرٹیفیشل انٹیلیجنس، سینتھیٹک بیالوجی اور جینیٹکس کو خاص طور پر بہت زیادہ اہمیت دی جاتی ہے۔ ان ذرائع کا کہنا ہے کہ اگلے دس برسوں میں ان ٹیکنالوجیز پر چین کی برتری پوری طرح نمایاں ہو جائے گی۔

چین برتری لے چکا ہے!

فنانشل ٹائمز سے گفتگو کرتے ہوئے نکولس شائلان کا کہنا تھا کہ امریکا کا اگلے پندرہ سے بیس برسوں تک چین سے ٹیکنالوجی میں کوئی مقابلہ نہیں رہے گا بلکہ اس کا فیصلہ ہو چکا ہے۔ شائلان نے واضح طور پر کہا،” مقابلے کا فیصلہ ہو چکا ہے‘‘۔ انہوں نے مزید کہا کہ اس میدان میں چین یقینی طور پر بالادستی رکھے گا اور یہ میڈیا سے لے کر علاقائی سیاست تک سب پر ظاہر ہو گی۔

نکولس شائلان نے پیچھے رہ جانے کو امریکا کا سست انداز قرار دیا اور امریکی کمپنیوں کی ہچکچاہٹ کو بھی اس کا ذمہ دار ٹھہریا۔ ان کا خیال ہے کہ بڑے ڈیجیٹل ادارے گوگل کو ریاست کے ساتھ مصنوعی ذہانت اور ٹیکانالوجیکل اخلاقیات کی بحث میں تعاون کرنا چاہیے تھا۔

پینٹاگون کے سابق چیف سوفٹ ویئر آفیسر کے اس ریمارکس پر گوگل کی جانب سے کوئی ردعمل سامنے نہیں آیا ہے۔

چینی کمپنیاں حکومت کی تابع ہیں

عسکری صدر دفتر کے اعلیٰ سابق اہلکار نے واضح کیا کہ چین کی کمپنیاں اپنے کاروباری اہداف کے حوالے سے اپنی حکومت کی تابع ہوتی ہیں اور انہوں نے آرٹیفیشل انٹیلیجنس کے شعبے میں اخلاقیات کو نظرانداز کرتے ہوئے بڑی سرمایہ کاری بھی کر رکھی ہے۔

انہوں نے یہ بھی کہا کہ کئی امریکی حکومتی اداروں میں سائبر ڈیفینس کی سطح ‘کنڈر گارٹن‘ پر ہے۔ نکولس شائلان نے اپنے منصب سے مستعفی ہونے کا اعلان رواں برس کے مہینے ستمبر کے اوائل میں کیا تھا۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے