اسرائیلی وزیر خارجہ کا دورہ یو اے ای. کیا یہ گہرے تعلقات کا اشارہ ہے؟

اسرائیلی وزیر خارجہ کا دورہ یو اے ای. کیا یہ گہرے تعلقات کا اشارہ ہے؟ اسرائیل کے وزیر خارجہ يائير لابيد آج دو روزہ دورے پر متحدہ عرب امارات پہنچ رہے ہیں۔ اسرائیلی وزیر خارجہ کے اس دورے کو عرب دنیا کے لیے بالعموم اور یو اے ای کے لیے بالخصوص ایک ‘اہم لمحہ’ قرار دیا جا رہا ہے۔

اسرائیل، متحدہ عرب امارات اور بحرین نے نو ماہ قبل اپنے تعلقات کو معمول پر لانے کی غرض سے ایک ‘تاریخی معاہدے’ پر دستخط کیے تھے۔ اس معاہدے کے نافذ العمل ہونے کے بعد یہ کسی بھی اسرائیلی وزیر کا یو اے ای کا پہلا دورہ ہو گا۔

دو روزہ دورے کے دوران اسرائیلی وزیر خارجہ اپنے اماراتی ہم منصب شیخ عبد اللہ بن زاید النہیان سے ملاقات کریں گے۔ وہ ابوظہبی اور دبئی میں اسرائیلی سفارت خانے اور قونصل خانے کے دفاتر کا افتتاح بھی کریں گے۔

اہمیت

اس دورے کی عرب دنیا کے لیے نہ صرف علامتی اہمیت ہے بلکہ مئی میں اسرائیل، غزہ تنازع کے بعد یہ دونوں فریقوں کے مابین پہلا باقاعدہ سرکاری رابطہ ہو گا۔ اقوام متحدہ کے مطابق اسرائیل، حماس تنازع کے دوران غزہ میں کم از کم 256 افراد مارے گئے جبکہ اسرائیل میں 13 افراد ہلاک ہوئے تھے۔

اسرائیل، حماس کے درمیان 11 روزہ تنازع متحدہ عرب امارات اور اسرائیل کے حال ہی میں قائم ہونے والے تعلقات کے لیے ایک امتحان تھا، خصوصاً جب یو اے ای نے اسرائیل کے ساتھ تعلقات اور معاہدے میں اسرائیل کی جانب سے مقبوضہ مغربی کنارے کے علاقے کو اپنے سے ملحق کرنے کے ایک موقع کے طور پر پیش کیا تھا، جس کی فلسطین نے شدید مخالفت کی تھی۔

لڑائی کے آغاز میں متحدہ عرب امارات نے مشرقی بیت المقدس کے اُن گھروں سے فلسطینیوں کے ممکنہ انخلا کی مذمت کی تھی جن پر یہودی آباد کار اپنی ملکیت کا دعویٰ کرتے ہیں۔ یہ مسئلہ اسرائیل اور فلسطین کی کشیدگی کا محور ہے۔ تنازعے کے دوران متحدہ عرب امارت نے اسرائیل پر زور دیا تھا کہ وہ اس معاملے کا حل تلاش کرے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے