اسپین:پاکستانی کمیونٹی کا قونصلرتعیناتی کا مسئلہ حل نہ ہوسکا

اسپین:پاکستانی کمیونٹی کا قونصلرتعیناتی کا مسئلہ حل نہ ہوسکا ۔اسپین میں مقیم پاکستانی کمیونٹی کی زیادہ تعداد بارسلونا اور اُس کے گرد و نواح میں آباد ہے۔

تفصیلات

قونصلیٹ جنرل آف پاکستان بارسلونا میں تین سال سے ویلفیئر قونصلر کی سیٹ خالی ہے جس پر تاحال کسی کو تعینات نہیں کیا جا سکا۔

قونصل خانہ بارسلونا 2007ء میں قائم ہوا جہاں اب تک ایم وائی جاوید، سید شکیل شاہ، محمد اسلم غوری اور آج سے تین سال قبل آخری ویلفیئر قونصلر عمر عباس میلہ تعینات رہے، عمر عباس میلہ کی مدت ملازمت پوری ہونے کے بعد آج تک کسی ویلفیئر قونصلر کو بارسلونا میں تعینات نہیں کیا جا سکا۔

بارسلونا اور اس کے گرد ونواح میں تقریباً 70 ہزار پاکستانی آباد ہیں جن کو مقامی اداروں کے ساتھ ساتھ صوبہ کاتالونیا کی جیلوں میں قید اپنے ہم وطنوں کو درپیش مسائل حل کرانے کے لیے ویلفیئر قونصلر کی اشد ضرورت ہے۔

درپیش مسائل

ویلفیئر قونصلر کی تعیناتی نہ ہونے کی وجہ سے بہت سے مسائل زیر التواء ہیں جن کو جلد حل کیا جانا بہت ضروری ہے کیونکہ جیلوں میں قید پاکستانیوں کو مذہبی رسومات ادا کرنے، حلال کھانوں، ملاقاتوں، ضمانت ناموں اور سزا پوری ہونے کے بعد اسپین مین رہنے یا ”ڈی پورٹ“ہونے جیسے مسائل کو حل کرانے کے لیے ویلفیئر قونصلر کی تعیناتی وقت کی اہم ضرورت ہے۔

اسپین میں مقیم مختلف شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والے پاکستانیوں نے حکومت پاکستان سے مطالبہ کیا ہے کہ قونصل خانہ بارسلونا میں جلد از جلد ویلفیئر قونصلر کو تعینات کیا جائے تاکہ ہمارے تاخیر کا شکار مسائل ترجیحی بنیادوں پر حل ہو سکیں۔

واضح رہے کہ وزارت خارجہ نے پانچ ممالک میں پاکستانی اوورسیز کی شکایات براہِ راست منسٹری کو ارسال کرنے کے لیے پورٹل کا آغاز کیا ہوا ہے جس میں بارسلونا، دبئی، جدہ، نیویارک اور لندن کے پاکستانی سفارت خانے اور قونصل خانے شامل ہیں۔

ویلفیئر قونصلر کی بارسلونا قونصل خانہ میں تعیناتی کا مطالبہ فارن منسٹری پورٹل پر بھی بیان کیا جا چکا ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے