"امریکہ نے پیٹھ میں چھرا گھونپا”فرانس نےاپنےسفیر واپس بلا لیے

امریکہ نے پیٹھ میں چھرا گھونپا”فرانس نےاپنےسفیر واپس بلا لیے ۔آسٹريليا نے فرانس کے ساتھ اربوں ڈالر کی ایک ڈيل منسوخ کر کے امريکا سے ایٹمی آبدوزيں خريدنے کا فيصلہ کیا ہے۔ فرانس کو اپنے قریبی دوست امریکا کی یہ بات پسند نہیں آئی اور اس نے ان دونوں ملکوں سے اپنے سفیر واپس بلا لیے ہیں۔

تفصیلات

امريکا اور فرانس اٹھارويں صدی سے اتحادی چلے آ رہے ہيں ليکن اب يہ اتحاد ايک نئے موڑ پران پہنچا ہے۔ آسٹريليا کے ساتھ آبدوزوں کی ايک ڈيل کے تناظر ميں فرانس نے امريکا اور آسٹريليا دونوں ہی ممالک سے اپنے سفير واپس بلوا ليے ہيں۔ فرانسيسی وزير خارجہ نے جمعے کی شب اس فيصلے کا باضابطہ طور پر اعلان کرتے وقت بتايا کہ آبدوزوں کی خريداری ميں آسٹريليا کی جانب سے فرانس کے ساتھ ڈيل منسوخ کرنا اور اس کے بدلے امريکی آبدوزيں خريدنا، اس فيصلے کی وجہ بنا۔ ان کے بقول اتحاديوں کے مابين ايسا رويہ ‘ناقابل قبول‘ ہے۔

آسٹريليا، امريکا اور برطانيہ کے مابين ايک دفاعی معاہدے کے تحت آسٹريليا کو جوہری ہتھياروں سے ليس ہونے کی صلاحيت رکھنے والی آبدوزيں مل سکتی ہيں۔

فرانسيسی ناراضگی کی وجہ

اسی ڈيل کے نتيجے ميں آسٹريليا کی فرانس کی ساتھ چھپن بلين يورو کی آبدوزوں کی ڈيل منسوخ ہو گئی ہے اور يہی پيرس حکومت کی ناراضگی کی وجہ بنی۔ ايک فرانسيسی سفارت کار کے مطابق اسی ہفتے بدھ کے روز فرانسيسی صدر ايمانوئل ماکروں کو آسٹريلوی وزير اعظم اسکاٹ موريسن سے ايک خط موصول ہوا، جس ميں معذرت کے ساتھ آبدوزوں کی ڈيل ختم کر دی گئی۔ فرانسيسی اہلکاروں نے جب امريکا سے رابطہ کيا، تو پتا يہ چلا کہ امريکا، برطانيہ اور آسٹريليا نے ايک نيا دفاعی اتحاد قائم کر ليا ہے اور اب امريکا آئندہ اٹھارہ ماہ ميں آسٹريليا کو آبدوزيں فراہم کرے گا۔

فرانسیسی حکام اسے ‘پيٹھ ميں چھرا گھونپنے‘ سے تعبير کر رہے ہيں۔ ان کے مطابق اتحادی اور پارٹنر ملکوں کے مابين ايسا نہيں ہوتا۔ فرانسيسی وزير خارجہ کے بقول آسٹريليا اور امريکا کے ساتھ اعتماد کا رشتہ تھا، جسے ان ملکوں نے ٹھيس پہنچائی ہے۔

يہی وجہ ہے کہ صدر ايمانوئل ماکروں نے دونوں ملکوں سے سفير واپس بلوانے کا اعلان کيا۔ مغربی اتحادی ممالک ميں سفیر واپس بلانا ايک غير معمولی بات ہے۔ سياسی مبصرين اسے ماکروں کے چار سالہ دور کا سب سے جرات مندانہ فيصلہ بھی قرار دے رہے ہيں۔

آسٹريلیا اور امریکہ کا جواب

امريکا کی قومی سلامتی کونسل کی ترجمان ايميلی ہورن نے اس معاملے پر رد عمل ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ دونوں ممالک رابطے ميں ہيں اور صلاح مشورے سے اختلافات دور کر ليے جائيں گے، جيسا کہ يہ دونوں اتحادی ممالک کرتے آئے ہيں۔ انہوں نے کہا، ”فرانس ہمارا سب سے پرانا اتحادی اور سب سے اہم پارٹنر ملک ہے۔ دونوں ممالک يکساں جمہوری اقدار اور عالمی چيلنجز سے نمٹنے کے معاملات سے جڑے ہوئے ہيں۔

امريکی محکمہ خارجہ کے ترجمان نيڈ پرائس نے بھی فرانس کے ساتھ اتحاد کی اہميت کا تذکرہ کيا۔ انہوں نے اپنے بيان ميں اميد ظاہر کی کہ آئندہ ہفتے نيويارک ميں اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے اجلاس کے موقع پر اختلافات دور کر ليے جائيں گے۔

آسٹريلوی حکومت نے فرانس کے فيصلے پر افسوس کا اظہار کيا ہے۔ وزير خارجہ ماريسے پين کے دفتر سے جاری کردہ بيان ميں کہا گہا ہے کہ کہ کينبرا حکومت فرانسيسی موقف سمجھتی ہے مگر يہ فيصلہ قومی سلامتی سے متعلق ملکی مفادات کو مدنظر رکھتے ہوئے کيا گيا ہے۔ ان کے مطابق آسٹريليا فرانس کے ساتھ اتحاد اور تعاون کی اہميت کو سمجھتا ہے اور مستقبل ميں ديگر معاملات پر تعاون جاری رکھنے کا خواہاں ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے