انسانی اسمگلر تارکین کو صحرا میں چھوڑ کر فرار،کئ تارکین موت کا شکار

انسانی اسمگلر تارکین کو صحرا میں چھوڑ کر فرار،کئ تارکین موت کا شکار ہو گئے۔صرف ایک لاکھ 68 ہزار روپے کی خاطر میرے بھائی اور دیگر قریبی رشتہ

داروں سمیت سات افراد کو موت کے منہ میں دھکیل دیا۔

یہ کہنا تھا پنجاب کے وسطی شہر گوجرانوالہ کی تحصیل وزیر آباد سے تعلق رکھنے والے رانا زاہد حسین کا جن کے خاندان کے سات میں سے تین افراد ضلع چاغی میں غیر روایتی راستوں سے ایران جانے کی کوشش کے دوران بھوک و پیاس کی کی وجہ سے جان کی بازی ہار گئے۔

لیکن گھر والوں کو ان افراد کی موت کا علم تین ہفتے بعد اس وقت ہوا جب ان تینوں میں سے ایک شخص کے شناحتی کارڈ کی تصویر سوشل میڈیا پر وائرل ہوئی۔

ان افراد کے اہل خانہ کا کہنا تھا ’اگر ہمیں معلوم ہوتا کہ ہمارے پیارے اس اذیت ناک انجام سے دوچار ہوں گے تو ہم ان کو کبھی بھی نہ جانے دیتے۔

ضلع چاغی کی تحصیل تفتان کے اسسٹنٹ کمشنر محمد حسین نے بتایا کہ تین دن کی مسلسل کوششوں کے بعد دو افراد کی لاشوں کو برآمد کیا گیا جو کہ تین ہفتے سے زیادہ صحرا میں پڑے رہنے کی وجہ سے 65 فیصد تک ڈی کمپوز ہو چکی تھیں۔

دونوں لاشوں کو بدھ اور جمعرات کی درمیانی شب کوئٹہ میں لواحقین کے حوالے کر دیا گیا تھا اور جمعے کی صبح ان کی اپنے اپنے علاقوں میں تدفین ہوئی۔

ان بد نصیب تارکین پر کیا بیتی؟

یہ سات افراد ایک بہتر مستقبل کا خواب لے کر پنجاب سے روانہ ہوئے تھے لیکن ویزے کی حصول میں مشکلات کی وجہ سے انھوں نے ان غیر روایتی راستوں کا انتخاب کیا تھا جہاں سے انسانی سمگلرز لوگوں کو غیر قانونی طور پر لے جاتے ہیں۔

رانا زاہد حسین کا کہنا تھا کہ ان سات افراد میں ان کے چھ رشتہ دار تھے جن میں بھائی سجاد علی، چچازاد بھائی، دو ماموں زاد بھائی، ایک بھانجا اور قریبی رشتہ دار شامل تھے۔

ان کا کہنا تھا کہ سجاد علی پہلے ہی ایران میں ایک کارخانے میں کام کرتے تھے، اس لیے باقی پانچ رشتہ دار ایک اور شخص کے ساتھ محنت مزدوری کے لیے ان کے ساتھ جانے کے لیے تیار ہو گئے۔

انھوں نے بتایا کہ یہ لوگ تین اگست کو پنجاب سے روانہ ہوئے اور چاغی پہنچنے کے بعد پانچ اگست کو وہاں سے ایران کی جانب روانہ ہوئے تھے۔

رانا زاہد حسین کے بقول ان کے بھائی سجاد کی کوئٹہ کے ایک ایجنٹ سے اس حوالے سے بات ہوئی اور معاملہ گیارہ ہزار روپے فی کس کے حساب سے طے ہوا کہ وہ ایجنٹ انھیں تافتان کے بارڈر سے ایران داخل کروا دے گا۔

رانا زاہد کا کہنا تھا کہ ان کا بھائی سجاد اور بھانجا محمد بلال اور ایک اور رشتہ دار محمد خلیق دیگر سات افراد کے ہمراہ پانچ اگست کو کوئٹہ پہنچے جہاں پر ان کی ملاقات ایجنٹ سے ہوئی جو انھیں گاڑی کے ذریعے نوکھنڈی کے راستے تافتان بارڈر کی طرف لے کر گئے۔

راستے میں ان دس افراد نے اس ایجنٹ کو گیارہ ہزار روپے فی کس کے حساب سے ادا کیے تو رانا زاہد کے بقول اس ایجنٹ نے کہا کہ اس کا سودہ تو 35 ہزار روپے فی کس کے حساب سے ہوا تھا۔

انھوں نے کہا کہ بحث و تکرار کے بعد اس ایجنٹ نے ایک لاکھ دس ہزار روپے رکھ لیے اور پھر کچھ دور جانے کے بعد ان تمام افراد کو یہ کہہ کر گاڑی سے اتار دیا کہ وہ کچھ دیر کے لیے یہاں رکیں، تو وہ دوسرے لوگوں کو لے کر آتا ہے۔

انھوں نے بتایا کہ ایجنٹ کے رویے میں تبدیلی دیکھتے ہوئے ایران جانے والے ان دس افراد نے خطرے کو بھانپ لیا اور اس ایجنٹ سے کہا کہ وہ انھیں 35 ہزار روپے فی کس کے حساب سے دینے کے لیے تیار ہیں لیکن وہ انھیں اس صحرا میں چھوڑ کر نہ جائیں جہاں پر نہ کوئی درخت ہے اور نہ کوئی کھانے پینے کی چیز۔

انھوں نے کہا کہ یہ دس افراد اس ایجنٹ کا انتظار کرتے رہے اور آدھا گھنٹہ تو کیا، وہ اگلے چھتیس گھنٹوں میں بھی نہیں آیا۔

ضلع چاغی کا شمار بلوچستان کے ان علاقوں میں ہوتا ہے جس کی طویل سرحد ایران اورافغانستان دونوں سے لگتی ہے۔

اس کے زیادہ تر علاقے صحرا اور ریگستان پر مشتمل ہیں۔ بالخصوص گرمیوں میں دن کو شدید گرمی پڑتی ہے جس میں سفر کرنا انتہائی مشکل ہوتا ہے۔

انھوں نے بتایا کہ علاقے سے واقفیت نہ ہونے کی وجہ سے یہ لوگ ایک دوسرے سے نہ صرف الگ ہوئے تھے بلکہ شدید گرمی میں پیاس اور بھوک کی وجہ سے ان کی حالت خراب ہوگئی تھی جس کے بعد ان میں سے کئی افراد موت کا شکار ہو گئے۔ اور بچ جانے والوں کی بھی حالت خراب تھی۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے