انڈونیشیا: جیل میں لگنے والی آگ سے درجنوں ہلاک

انڈونیشیا: جیل میں لگنے والی آگ سے درجنوں ہلاک ہونے کی اطلاعات۔ نڈونیشیا کی ایک جیل میں بُدھ کو آگ لگنے کے واقعے میں 41 افراد جھلس کر ہلاک ہو گئے جبکہ درجنوں زخمی ہوئے ہیں۔ زخمیوں میں کئی کی حالت نازک ہے۔ اس جیل میں گنجائش سے زیادہ قیدیوں کو رکھا گیا ہے۔
انڈونیشیا کی قیدیوں سے بھری ہوئی اس جیل میں بُدھ کو مقامی وقت کے مطابق تین بجے صبح آگ لگنے کا یہ واقعہ پیش آیا۔ جیل کے تمام قیدی اُس وقت سو رہے تھے۔ آتش زدگی کے اس واقعے میں 41 افراد کی ہلاکت اور درجنوں کے زخمی ہونے کی اطلاع ہے۔ حکام کے مطابق آٹھ افراد شدید زخمی ہوئے ہیں جبکہ 72 کو معمولی زخم آئے ہیں۔

آتش زدگی کہاں ہوئی

پولیس کے مطابق یہ واقعہ انڈونیشیا کے دارالحکومت جکارتہ سے باہر تانگیرانگ جیل میں پیش آیا۔ حکام آگ لگنے کی وجوہات کے بارے میں چھان بین کر رہے ہیں۔ دریں اثناء جکارتہ پولیس چیف فادی عمران نے ایک پرس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا،”آگ لگنے کے اس واقعے میں اس جیل کے 41 قیدی ہلاک ہو گئے، آٹھ دیگر کو شدید زخم آئے ہیں اور 72 قیدی معمولی زخمی ہیں۔‘‘ آتش زدگی کی وجہ کے بارے میں کوئی حتمی بات نہیں کہی گئی لیکن پولیس کے بیان میں مبینہ طور پر شارٹ سرکٹ کو اس آتش زدگی کی وجہ کہا گیا ہے۔ جکارتہ پولیس چیف عمران نے مزید کہا،”میں نے جائے وقوعہ کا خود معائنہ کیا ہے۔ ابتدائی جائزے سے ایسا لگتا ہے کہ آگ شاٹ سرکٹ کے سبب لگی۔‘‘

ٹیلی وژن فوٹیج میں دیکھا جا سکتا ہے کہ کس طرح تانگیرانگ جیل کا ایک حصہ شعلوں کی لپیٹ میں ہے۔ آگ بجھانے والے عملے نے تیزی سے آگ پر قابو پا لیا۔

جیل کا مخصوص بلاک آگ کی لپیٹ میں

تانگیرانگ جیل کے جس بلاک میں یہ آگ لگی وہاں منشیات سے متعلق جرائم میں ملوث افراد کو سزا کاٹنے کے لیے رکھا جاتا ہے۔ اس جیل کے حوالے سے مشہور ہے کہ یہاں گنجائش سے زیادہ قیدیوں کو رکھا گیا ہے۔ جیل کے اس مخصوص شعبے کے ڈائریکٹر جنرل کی ایک ترجمان ریکا اپریانتی نے اس امر کی تصدیق کرتے ہوئے کہا ،” جیل کے اس بلاک میں محض 40 قیدیوں کی گنجائش تھی مگر یہاں 120 قیدیوں کو رکھا گیا تھا‘‘۔ تانگیرانگ جیل کی ویب سائٹ پر موجود اطلاعات کے مطابق اس جیل میں دو ہزار سے زائد قیدی سزائیں کاٹ رہے ہیں۔ یہ تعداد اس کی گنجائش سے تین گنا زیادہ ہے۔

انڈونیشیا کی جلیوں کی صورتحال

انڈونیشیا میں کم و بیش تمام جیلوں میں اس قسم کی صورتحال پائی جاتی ہے۔ اس ملک کی جیلوں میں حفظان صحت انتظامات کے فقدان اور بہت زیادہ بھیڑ سے تنگ آکر قیدی اکثر جیل توڑنے کی کوشش کرتے ہیں اور ایسے واقعات آئے دن خبروں کی سرخی بنتے ہیں۔ اس ملک کی جیلوں میں مجموعی طور پر قریب ایک لاکھ ستر ہزار قیدی بند ہیں۔ 2019ء میں جزیرہ سماٹرا کے صوبے ریاؤ کی ایک جیل میں ہنگامہ آرائی اور آتش زدگی کے بعد کم از کم 100 قیدی فرار ہو گئے تھے۔ گزشتہ سال اپریل میں انڈونیشیا کی بھری ہوئی ایک جیل سے کورونا کی وبا کے پھیلنے کے خوف کے باعث 29 ہزار قیدیوں کو رہا کر دیا گیا تھا۔ یہ جیل اپنی ناگفتہ بہ صورتحال کی وجہ سے کافی بدنام ہے

270 ملین کی آبادی والے اس جنوب مشرقی ایشیائی ملک میں حفاظتی انتظامات کی کمی پائی جاتی ہے۔

2019 ء میں شمالی سماٹرا کی ایک ماچس فیکٹری میں ہونے والے دھماکے میں 30 افراد بشمول متعدد بچے، موت کے مُنہ میں چلے گئے تھے۔ یہ واقعہ ایک کارکن کے ہاتھ سے فیکٹری میں موجود آتش گیر مواد پر لائٹر گرنے کے نتیجے میں پیش آیا تھا۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے