"ایران کے پاس اب زیادہ وقت نہیں”جرمن وزیرخارجہ نے خبردار کر دیا

"ایران کے پاس اب زیادہ وقت نہیں”جرمن وزیرخارجہ نے خبردار کر دیا ہے۔ جرمن وزیر خارجہ نے کہا ہے کہ ایران سن دو ہزار پندرہ کی عالمی جوہری ڈیل کو بچانے کی کوششوں کو ٹال رہا ہے۔ ہائیکو ماس نے خبردار کیا ہے کہ اس ڈیل کی بحالی کا آپشن زیادہ دیر تک موجود نہیں رہے گا۔

تفصیلات

جرمن وزیر خارجہ ہائیکو ماس نے جمعے کے دن کہا کہ تہران حکومت عالمی جوہری ڈیل کی بحالی کی کوششوں کو سنجیدہ نہیں لے رہا۔ انہوں نے کہا کہ سن دو ہزار پندرہ میں طے پانی والی اس تاریخی ڈیل کو بچانے کی کوششوں میں تاخیر سے معاملات مزید الجھ سکتے ہیں۔

ماس نے خبردار کیا کہ اگر ایران اس حوالے سے تاخیر کرتا ہے تو ہو سکتا ہے کہ مسقتبل میں اس کے پاس اس ڈیل کی بحالی کا آپشن نہ رہے۔

کثیر الاشاعتی مؤقر جرمن ہفت روزہ ڈیئر اشپیگل سے گفتگو میں ماس نے مزید کہا، ”مجھے یہ دیکھ کر بے چینی ہو رہی ہے کہ ایک طرف سے ایران ویانا میں اس حوالے سے بحال ہونے والے مذاکراتی عمل کو مؤخر کر رہا ہے اور دوسری طرف اس ڈیل کے بنیادی نکات سے مزید دوری اختیار کرتا جا رہا ہے۔‘‘

ایران نے اس عالمی جوہری ڈیل کو بچانے کی خاطر اپریل میں مذاکرات کو عمل شروع کیا تھا۔ اس ڈیل کے تحت ایران نے اپنی جوہری سرگرمیوں میں کمی لانا تھی، جس کے بدلے عالمی طاقتوں نے اس پر عائد پابندیوں کو مرحلہ وار کم کرنا تھا۔

امریکا کی واپسی

سابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے سن دو ہزار اٹھارہ میں ‘جوائنٹ کمپری ہینسَو پلان آف ایکشن‘ JCPOA نامی اس ڈیل سے یک طرفہ طور پر علیحدگی اختیار کرلی تھی جبکہ ان کی انتظامیہ نے ایران پر پہلے سے عائد پابندیوں کو بھی بحال کر دیا تھا۔

تاہم امریکی انتظامیہ میں تبدیلی کے بعد صدر جو بائیڈن نے ایران کے ساتھ سفارتکاری کا عندیہ دے رکھا ہے۔ ویانا میں ہونے والے نئے مذکرات میں امریکا بالواسطہ طور پر شامل بھی ہے۔ جمعرات کے دن امریکی وزیر خارجہ انٹونی بلنکن نے بھی کہا تھا کہ مذاکرات کا یہ راستہ زیادہ دیر کھلا نہیں رہے گا۔

ایران میں اقتدار کی منتقلی

تاہم تہران حکومت حسن روحانی کی سبکدوشی اور نئے صدرابراہیم رئیسی کے اقتدار سنبھالنے کے انتظار میں ہے۔ ایران میں ہونے والے حالیہ صدارتی انتخابات میں کامیابی حاصل کرنے والے رئیسی اگست کے آغاز میں صدر کے عہدے کا حلف اٹھا لیں گے۔

ہائیکو ماس کے مطابق وہ ایران میں سیاسی تبدیلی کے بعد اس کے مذاکرات عمل میں شامل ہونے کے منتظر رہیں گے۔ انہوں نے مزید کہا کہ وہ اس مذاکراتی عمل کی بحالی چاہتے ہیں اور پختہ یقین رکھتے ہیں کہ یہ عمل تمام فریقین کے مفاد میں ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے