بڑی ڈیجیٹل کمپنیوں کی لابنگ، آخر مقاصد کیا ہیں؟

بڑی ڈیجیٹل کمپنیوں کی لابنگ، آخر مقاصد کیا ہیں؟ رپورٹ میں انکشاف ۔گوگل، فیس بک اور مائیکروسوفٹ جیسے ادارے یورپی یونین کا موقف اپنے حق میں رکھنے کی کوشش میں مصروف ہیں۔ ان کی کوشش ہے کہ ان کی طاقت کو محدود کرنے کی قانون سازی کا عمل ادھورا رہے۔

تفصیلات


ایک تازہ ریسرچ کی رپورٹ سے پتا چلا ہے کہ ایلفابیٹ کارپوریشن کے یونٹ گوگل، فیس بک کارپوریشن اور مائیکروسوفٹ کارپوریشن اس وقت یورپی یونین میں اپنی لابی یا حمایت حاصٓل کرنے پر بے پناہ رقوم خرچ کر رہے ہیں۔

حمایت حاصل کرنے کی جد و جہد

اس ریسرچ کی تکمیل لابی کرنے والے گروپوں پر نظر رکھنے والے دو اداروں کارپوریٹ یورپ آبزرویٹری اور لابی کنٹرول نے مکمل کی ہے۔ ان کے مطابق یہ تینوں بڑی کمپنیاں پورا زور لگائے ہوئے ہیں تا کہ وہ نئے قانونی ضوابط کو اپنی خواہش کے مطابق ترتیب دے سکیں

رپورٹ میں واضح کیا گیا کہ اس انداز کی لابی نے ظاہر کیا ہے کہ بڑی ٹیکنیکل اور ڈیجیٹل کمپنیاں لابیئنگ جاری رکھتے ہوئے یورپی ممالک میں معاشرتی اثر و رسوخ قائم رکھنے کی کوشش میں ہیں۔ محققین کے مطابق ان کی کوششوں سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ مخالف آوازوں اور ناقدین کے بیانات کی موجودگی میں نئے ضوابط کے متعارف کرانے سے قبل ان کے موقف کو یقینی طور پر سنا گیا، حالانکہ یہ امر باعث تشویش ہے۔

ڈیجیٹل کمپنیوں کے لابیئنگ پر اخراجات

اس ریسرچ نے بتایا کہ اس وقت چھ سو بارہ کمپنیاں، گروپس اور تنظیموں کے نمائندے ٹیکنیکل سیکٹر کی جانب سے لابیئینگ کر رہے ہیں۔ یہ اب تک ستانوے ملین یا ایک سو چودہ ملین ڈالر لابیئنگ پر خرچ کر چکے ہیں۔ لابی کا تعلق براہ راست یورپی یونین کی ڈیجیٹل اکانومی پالیسیوں سے ہے۔ ان کے علاوہ کچھ چھوٹے گروپ بھی لابی میں مصروف دیکھے گئے ہیں۔
چین کا انٹرنیشنل ٹیکنیکل ادارہ ہواوے بھی لابی کرنے والوں میں شامل ہے
گوگل نے لابیئنگ پر سب سے زیادہ رقم خرچ کی اور یہ پونے چھ ملین یورو کے مساوی ہے۔ اس کے بعد فیس بک ہے، جس نے ساڑھے پانچ ملین یورو لابی کی کوششوں میں لگائے ہیں۔

تیسرے مقام پر مائیکروسوفٹ ہے، جس نے اپنی لابی کی مہم پر سوا پانچ ملین یورو خرچ کیے ہیں۔ ان کے بعد ایپل ہے جو اب تک ساڑھے تین ملین، چینی فون ساز ادارہ ہواوے تین ملین یورو اور ایمیزون نے پونے تین ملین یورو لابی کرنے والے سیکٹر کو ادا کیے ہیں۔

ایک اور تنظیم کنزیومر وائس کا کہنا ہے کہ یورپی یونین میں لابیئنگ کر کے اپنے مقاصد کی تکمیل کی یہ سب سے بڑی اور مہنگی کوشش ہے۔ کنزیومر وائس پینتالیس چھوٹی ایسی تنظیموں کا ایک مشترکہ گروپ ہے۔

ریسرچ پر بڑے ڈیجیٹل اداروں کا ردعمل

اس رپورٹ کی اشاعت پر گوگل اور ہواوے نے کہا ہے کہ انہوں نے لابیئنگ پر جو کچھ خرچ کیا ہے، اس کی تفصیل یورپی یونین کے ٹرانپیرنسی رجسٹر کو فراہم کر دی گئی ہے۔ گوگل نے نیوز ایجنسی روئٹرز کے ایک سوال کے جواب میں یہ کہا ہے کہ وہ اپنی اُن پالیسیوں کے حوالے سے واضح کرنا چاہتے ہیں جو لوگوں کی آزادی اور ادارے کی بطور اسپانسر تحفظ فراہم کرنے سے متعلق ہیں۔ گوگل نے اسی پالیسی کے تحت لابی پر اٹھنے والی اخراجات ظاہر کرنے کا بھی بتایا۔
لابیئنگ میں مجموعی طور پر چھ سو بارہ ڈیجیٹل اور ٹیکنیکل گروپوں، تنظیموں اور اداروں کے نمائندے شامل ہیں
مائیکروسوفٹ نے روئٹرز کو بتایا کہ یورپی یونین ان کے ادارے کے لیے ایک اہم اسٹیک ہولڈر ہے اور رہے گا، لابی کے تناظر میں اس کا کردار تعمیری اور شفاف ہے۔

یورپی کمیشن کا بیان

ریسرچ رپورٹ میں یہ بھی بتایا گیا کہ بڑی ٹیکنیکل کمپنیوں کو یورپی کمیشن میں رسائی حاصل ہے اور ان کے مقرر کردہ لابیئسٹ کل دو سو ستر میٹنگوں میں سے تین چوتھائی میں شریک تھے۔ دوسری جانب یورپی کمیشن کے ترجمان کا کہنا کہ کہ کمیشن ایک آزاد ادارہ ہے اور کسی بھی فرد سے ملاقات اور گفتگو کرنے کا مجاز ہے۔ ترجمان کا کہنا ہے کہ لابی کرنے والوں کی حکمت عملی پر تبصرہ کرنا کمیشن کا کام نہیں ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے