بی ایم ڈبلیو کمپنی اپنی گاڑیاں پاکستان میں بنائےگی، سفیر کی ملاقات۔

بی ایم ڈبلیو کمپنی اپنی گاڑیاں پاکستان میں بنائےگی، سفیر کی ملاقات۔ جرمن میں پاکستانی سفیر ڈاکٹر فیصل کی بی ایم ڈبلیو حکام سے ملاقات میں یہ طے پایا ہے کہ بی ایم ڈبلیو اپنا مینوفیکچرنگ یونٹ پاکستان میں لگائے گی۔

ڈاکٹر فیصل نے آج صبح ٹویٹ میں بتایاکہ ان کی بی ایم ڈبلیو حکام کے ساتھ نتیجہ خیز ملاقات ہوئی ہے جس میں یہ طے ہوا ہے کہ بی ایم ڈبلیو اپنا مینوفیکچرنگ یونٹ پاکستان میں لگائے گی اور اس کی تمام گاڑیاں پاکستان میں ہی تیار ہوگی۔

اس سے نہ صرف پاکستان کی آٹو موبائل انڈسٹری کو بے تحاشہ فوائد حاصل ہوں گے بلکہ آٹو موبائل پر ان چند کمپنیوں کا قبضہ بھی ختم ہوگا جو پہلے پاکستان میں کام کر رہی ہیں۔

اس سے پہلےزیادہ تر بین الاقوامی کمپنیوں کے پاکستان میں کام نہ کرنے کی وجہ سے پاکستان کی آٹو موبائل انڈسٹری پر صرف چند ہی کمپنیز کا احتیار تھا۔یہ کمپنیز اپنے من پسند قیمت پر گاڑیاں فروخت کرتی ہیں۔

بی ایم ڈبلیو کے ساتھ مزید کمپنیوں کے پاکستان میں کام کرنے کی بدولت پاکستان کی آٹو موبائل انڈسٹری کو عروج حاصل ہوگا اور خریداروں کو بھی مزید مواقع حاصل ہوں گے۔

پاکستانی حکومت بین الاقوامی کمپنیز کو ٹیکس میں چھوٹ کے ساتھ ساتھ بہت سی سہولیات فراہم کر رہی ہے لیکن ان کمپنیوں کو اس بات پر قائل کرناکے مینوفیکچرنگ یونٹ بھی پاکستان میں لگائیں یہ بہت مشکل کام تھا کیونکہ ماضی میں پاکستان کے معاشی حالات میں عدم استحکام کی بدولت کمپنیز پاکستان پر اعتبار کرنے پر تیار نہ تھیں۔

پاکستان اپنی آٹو موبائل انڈسٹری پر قائم جاپانی کمپنیز ٹویوٹا سوزوکی اور کرولا کا دائرہ اختیار کم کرنا چاہتا ہے کیونکہ یہ کمپنیز تیار شدہ گاڑیاں بیچتی ہیں جو کہ خاصی مہنگی پڑتی ہیں۔اور یہ بین الاقوامی معیار کے مطابق بھی نہیں ہوتیں۔

اس حوالے سے ماہرین کا کہنا تھاکہ حکومت کو چاہیے کہ وہ مینوفیکچرنگ کمپنیوں کو قائل کریں کہ وہ اپنے یونٹ پاکستان میں شروع کریں تاکہ پاکستان میں تیار کردہ گاڑیاں خریداروں کو مناسب قیمت پر مل سکیں۔

اب پاکستان کی کرونا وائرس کے خلاف کامیابی،معاشی استحکام اور کرپشن میں کمی کی بدولت بین الاقوامی اداروں کا پاکستان پر اعتماد بحال ہوا ہے جس کی وجہ سے وہ پاکستان میں کام کرنے پر مائل نظر آتے ہیں۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ آٹوموبائل کی نئی پالیسی جس میں بین الاقوامی کمپنیوں کو ٹیکس میں چھوٹ دی گئی ہے اس کی بدولت پاکستان کی آٹو موبائل انڈسٹری کو عروج حاصل ہوگا۔چیئرمین بورڈ آف انویسٹمنٹ مفتاح اسماعیل کا اس حوالے سے کہنا ہے کہ ان کی بہت سی بین الاقوامی کمپنیز سے آٹو موبائل پارٹس یونٹ بھی پاکستان میں لگانے کے حوالے سے بات چیت ہوئی ہے اور ان میں سے چند ایک کمپنیز نے پاکستان میں اپنے یونٹ لگانے کے حوالے سے آمادگی ظاہر کی ہے۔

پاکستان آٹو انڈسٹری کی پیداواری صلاحیت

پاکستان کی آٹو انڈسٹری اتنی بڑی نہیں سمجھی جاتی کیونکہ صرف ایک لاکھ اسی ہزار گاڑیاں 2014 ۔15 میں فروخت ہوئیں۔

پاکستان آٹو موبائل پارٹس ایسوسی ایشن کے صدر ممشاد علی کا کہنا تھا”پاکستان آٹو موبائل انڈسٹری اتنی بڑی نہیں لیکن حکومت کی نئی پالیسیوں کی وجہ سے انڈسٹری کو فروغ ملے گا جس سے کاروبار میں اضافہ ہوگا انہوں نے مزید کہا کہ حکومت کی ٹیکس پالیسی سےکافی حد تک بین الاقوامی انویسٹرز کا اعتماد بحال کرنے میں کامیاب رہی ہیں اور امید ہے کہ بہت سی بین الاقوامی کمپنیز اپنے پلانٹ پاکستان میں لگانے پر غور کریں گی۔

سوزوکی کمپنی کے مطابق وہ چار سو ساٹھ ملین ڈالر کا کاروبار پاکستان میں کرنے کے خواہشمند ہیں جس میں پاکستان میں آٹو موبائل پارٹس کے حوالے سے پلانٹس شامل ہیں۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ پلانٹس لگانے کے لیے درکارمشینری منگوانے پر ٹیکس کم ہونا چاہیے اس سے کاروبار میں مزید اضافہ ہوگا۔بین الاقوامی سرمایہ کاری کے ماہرین نے بی ایم ڈبلیو اور دیگر کمپنیوں کے پاکستان میں کاروبار کرنے پر آمادگی کو خوش آئند قرار دیا ہے اور امید ظاہر کی ہے کہ اس سے کاروبار کرنے والے کے ساتھ ساتھ خریدارکو بھی فائدہ ہوگا۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے