تارکین وطن کی بھوک ہڑتال کام کر گئی، حکومت نے خوشخبری سنادی

تارکین وطن کی بھوک ہڑتال کام کر گئی، حکومت نے خوشخبری سنادی ہے۔ یورپی ملک بیلجیئم میں ترک نے وطن کی طویل بھوک ہڑتال بلا ہر کام کر گئی ہے حکومت نے مذاکرات میں بڑی نوید سنا دی جس کے بعد کئی تارکین وطن نے میں بھوک ہڑتال ختم کرنے کا اعلان کردیا ہے۔

تفصیلات

تفصیلات کے مطابق بیلجیئم کی سوا کروڑ آبادی میں تارکین وطن کی بڑی تعداد موجود ہے۔لیکن اب بھی ڈیڑھ کروڑ کے قریب تارکین وطن بغیردستاویزات کے قیام پذیر ہیں۔ان میں سے اکثریت کی برسوں سے یہاں مقیم ہے۔صحت کب عنین کی وجہ سے یہ لوگ قانونی دستاویزات حاصل کرنے میں ناکام رہے۔

دو ماہ قبل 23 مئی کو سیکڑوں تارکین وطن نے لیگل سٹیٹس حاصل کرنے کے لیے بھوک ہڑتال کا اعلان کر دیا تھا۔ان لوگوں نے برسلز کے ایک چرچ اور یونیورسٹی کینٹین سمیت چندمقامات پر بھوک ہڑتال شروع کر دی تھی۔ان کی مدد کے لیے تارکین وطن کی حامی کئ تنظیمیں میدان میں آگئی تھیں۔

گزشتہ دو ماہ سے یہ تارکین وطن کچھ نہیں کھا رہے تھے۔یہ تنظیمیں انہیں قائل کر کے پانی اور جوس کے ساتھ کچھ نہ کچھ کھانا کھلا پلا رہی تھیں۔اس دوران کچھ تارکین وطن نے احتجاجاً اپنے ہونٹ بھی سی لیے تھے۔اور پانی اور جوس لینا بھی چھوڑ دیا تھا۔جس سے ان کی حالت بگڑ رہی تھی۔جس سے تارکین وطن کی موت کا خدشہ پیدا ہو گیا تھا۔

ان حالات میں حکومت میں شامل چند جماعتوں نے وزیراعظم کو خبردار کیا تھا کہ اگر کسی تارکینِ وطن کی موت ہوئی تو وہ حکومت سے علیحدگی اختیار کرلیں گے۔جس سے حکومت پر دباؤ بڑھا اور انہوں نے مذاکرات شروع کیے تھے۔جو کہ کامیاب رہے۔

ان مذاکرات کے نتیجے میں بیلجیئم حکومت اور پرکن وطن کی نمائندہ تنظیموں کے درمیان یہ طے پایا کہ ان تمام تر کین کے کیسز کا دوبارہ جائزہ لیا جائے گا۔ترکین کی مخصوص تعداد کو مخصوص کیسز کی بنیاد پر قانونی قیام کی اجازت دی جائے گی۔ہر تارکین وطن کو اس کے رہائش کے پرمٹ کے حوالے سے اطلاع فورا دی جائے گی۔بیلجیئم کے وزیراعظم نے معاہدے کا خیر مقدم کرتے ہوئے کہا کہ بھوک ہڑتال کے خاتمے کے لیے یہی درست فیصلہ تھا۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے