ترکی میں پاکستانی تارکین کی پہلی تنظیم قائم

ترکی میں پاکستانی تارکین کی پہلی تنظیم قائم کر دی گئی۔ترکی میں مقیم پاکستانی تارکین وطن کی فلاح و بہبود کے لئے بڑا قدم اٹھایا گیا ہے۔اب پاکستانی کسی بھی مشکل میں تنہا نہیں ہوں گے،کیوں کہ ترکی میں پاکستانی تارکین وطن کے لیے پہلی تنظیم قائم کر دی گئی ہے جو لوگوں کی فلاح و بہبود کے لئے کام کرے گی۔

تفصیلات

تفصیلات کے مطابق ترکی میں پاکستانی کمیونٹی بڑی تعداد میں قیام پذیر ہے لیکن ابھی تک وہاں پاکستانیوں کی نمائندہ کوئی تنظیم موجود نہیں تھی جس کی وجہ سے کسی بھی پریشانی میں مبتلا پاکستانیوں کا کوئی پرسان حال نہیں تھا۔ ایسے میں انفرادی اور اجتماعی مسائل حل کرنے میں بھی مشکلات پیش آتی تھیں۔

ان حالات میں ترکی میں مقیم معروف شخصیات نے "پاکستان کمیونٹی سنٹر ترکی "کے نام سے ایک تنظیم قائم کر دی ہے ۔اور کمیونٹی کی معروف شخصیت خالد جوئیہ کو اس کا صدر مقرر کیا ہے۔ اس تنظیم کو حکومت سے رجسٹر کرا لیا گیا ہے۔جبکہ پاکستانی سفارتخانہ و قونصل خانہ بھی اس تنظیم کے ساتھ شریک عمل ہے۔

تنظیم کی باڈی میں سات عہدہ داروں کے چناؤ کےبعد پاکستانی کمیونٹی کی رجسٹریشن شروع کر دی گئی ہے۔تنظیم کے صدر خالد جوئیہ کا کہنا ہے کہ پاکستان کمیونٹی سینٹر ترکی میں مقیم پاکستانیوں کے مسائل کے حل کے لیے کام کرے گی۔پاکستان کے سفیر اور استنبول کے کونسلر جنرل بھی آن بورڈ ہیں اور بھرپور تعاون کر رہے ہیں۔انہوں نے مزید کہا کہ ترکی میں مقیم پاکستانیوں کے بڑے مسائل میں دونوں ممالک کے درمیان دوہری شہریت کے معاہدے کا نہ ہونا سرفہرست ہے۔ہم اس مسئلہ کے حل کے لئے دونوں حکومتوں سے رابطہ کریں گے۔اس کے علاوہ پاکستانی کمیونٹی کے ویزا میں توسیع کے بھی مسائل ہیں۔انہوں نے بتایا کہ ترکی میں پاکستانیوں کی بڑی تعداد غیر قانونی طور پر قیام پذیر ہے۔ ان کے ساتھ حادثات بھی پیش آجاتے ہیں۔اور بعض اوقات وہ جرائم پیشہ افراد کے بھی ہاتھ لگ جاتے ہیں۔ہم ان غیر قانونی پاکستانیوں کو بھی مدد فراہم کریں گے۔سفارت خانے سے مل کر انہیں قانونی مدد فراہم کی جائے گی۔واپسی کے خواہش مند افراد کے ساتھ تعاون کیا جائے گا ۔ترکی میں وفات کی صورت میں میت کی پاکستان روانگی کے لئے بھی تعاون کیا جائے گا۔انہوں نے بتایا کہ عید کے بعد تنظیم کا افتتاحی اجلاس ہوگا۔جس میں ترک حکومت کی ممتاز شخصیات بھی مدعو کی جائیں گی۔

4 thoughts on “ترکی میں پاکستانی تارکین کی پہلی تنظیم قائم

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے