ترکی نے 10ممالک کے سفیروں کو ناپسندیدہ قرار دے دیا

ترکی نے 10ممالک کے سفیروں کو ناپسندیدہ قرار دے دیا ۔ ترک صدر رجب طیب اردوان نے 10 ممالک کے سفیروں کو ناپسندیدہ قرار دینے کا حکم دے دیا۔

تفصیلات

خبر ایجنسی کے مطابق ترکی میں زیرحراست سماجی کارکن کی حمایت میں بیان پر سفیروں کو ناپسندیدہ قرار دیا گیا۔

خبرایجنسی کے مطابق ناپسندیدہ قرار دیےجانےوالوں میں امریکا، جرمنی اور فرانس سمیت دیگر یورپی ممالک کے سفیر شامل ہیں۔

ترک صدر رجب طیب ایردوآن نے کہا ہے کہ انہوں نے ملکی وزارت خارجہ کو دس مغربی ممالک کے سفیروں کو ناپسندیدہ شخصیات قرار دینے کا حکم جاری کر دیا ہے۔ اس حکم پر عمل درآمد کے بعد ان ممالک کے سفیروں کو ملک بدر کیا جا سکے گا۔
استنبول سے ہفتہ تیئیس اکتوبر کو ملنے والی رپورٹوں کے مطابق صدر ایردوآن نے کہا ہے کہ ان غیر ملکی سفیروں کے ناپسندیدہ شخصیات قرار دیے جانے کا حکم اس لیے جاری کیا گیا کہ انہوں نے ترکی میں زیر حراست رہنما عثمان کوالا کی رہائی کا مطالبہ کیا تھا۔

عثمان کوالا انسان دوستی کی بنیاد پر مختلف سماجی اور فلاحی منصوبے چلانے والے رہنما سمجھے جاتے ہیں۔

عثمان کوالا ترکی میں 2017ء کے اواخر سے زیر حراست ہیں اور ان پر الزام ہے کہ انہوں نے 2013ء میں ہونے والے ملک گیر احتجاجی مظاہروں کے لیے مالی وسائل مہیا کیے تھے۔

اس کے علاوہ انقرہ حکومت کی طرف سے ان پر 2016ء کی ناکام فوجی بغاوت میں ملوث ہونے کا الزام بھی لگایا جاتا ہے۔ کوالا اپنے خلاف ان تمام الزامات سے انکار کرتے ہیں۔

دس ممالک کون سے ہیں؟

صدر ایردوآن نے جن دس ممالک کے سفیروں کو ناپسندیدہ شخصیات قرار دے کر ان کے آئندہ ملک بدر کر دیے جانے کا حکم جاری کیا ہے، ان میں انقرہ میں کینیڈا، ڈنمارک، فرانس، جرمنی، نیدرلینڈز، ناروے، سویڈن، فن لینڈ، نیوزی لینڈ اور امریکا کے سفیر شامل ہیں۔

ان غیر ملکی سفیروں نے 18 اکتوبر کو ایک مشترکہ بیان جاری کیا تھا، جس میں انہوں نے مطالبہ کیا تھا کہ انقرہ حکومت عثمان کوالا کے خلاف مقدمے کو جلد از جلد اور منصفانہ طور پر اس کے انجام تک پہنچائے

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے