تعلیمی اداروں میں کورونا کیسز میں اضافہ۔

تعلیمی اداروں میں کورونا کیسز میں اضافہ۔ وفاقی سرکاری تعلیمی اداروں میں کورونا کیسز میں اضافہ ہونے لگا۔

تعلیمی اداروں میں کورونا کے رینڈم ٹیسٹ کیے جارہے ہیں۔ اسلام آباد میں کالج فار بوائز جی سکس تھری میں کورونا کے تین کیسز مثبت آگئے جن میں وائس پرنسپل اور دو اساتذہ شامل ہیں۔

ڈسٹرکٹ ہیلتھ آفیسر نے اسلام آباد کالج فار بوائز جی سکس تھری کو سیل کرنے کی سفارش کرتے ہوئے کہا کہ کم از کم پانچ روز کالج بند رکھا جائے، کمروں میں ڈس انفکیشن (جراثیم کش) اسپرے کیا جائے۔
اسلام آباد کے ہی ماڈل کالج فار گرلز ایف سیون فور میں بھی تین پازیٹو کیسز آگئے جن میں ایک آیا اور دو طلباء شامل ہیں۔ ڈسٹرکٹ ہیلتھ آفیسر نے گرلز کالج کو سیل بھی کرنے کی سفارش کر دی۔

یاد رہے کہ 15 ستمبر سے سکول اور کالجز کھولنے کے بعد کرونا کیسز میں اضافہ دیکھنے میں آیا تھا۔ابھی تک کی معلومات کے مطابق 556 کیسزرپورٹ ہوئے ہیں جس کے بعد ملک میں ایکٹیو کیسز کی تعداد13 ہزار رہ گئی ہے۔

وزارت تعلیم کا کہنا ہے کہ تمام تعلیمی ادارے دوبارہ بند نہیں کیے جائیں گے۔رینڈم ٹیسٹنگ کے نتیجے میں جس سکول یا کالج میں میں کیسز ظاہر ہوئے اس کو پندرہ دن کے لئے سیل کر دیا جائے گا۔

پچھلے دو روز میں سب سے زیادہ کیسز کراچی میں سامنے آئے جبکہ کہ پنجاب میں بھی کیسز کی تعداد میں اضافہ دیکھا گیا ہے۔پنجاب کی وزارت تعلیم بی سکولوں اور کالجوں میں رینڈم ٹیسٹنگ کر رہی ہے۔

وزیر تعلیم کا کہنا ہے کہ کرونا کے ایس او پیز پر سختی سے عمل درآمد کروایا جائے گا اس سلسلے میں کوئی کوتاہی برداشت نہیں کی جائے گی۔صرف کل کے دن میں ایس او پیز پر عمل نہ کرنے کی مد میں سکولوں کے 56 اساتذہ کو معطل کردیا گیا تھا۔

اس سلسلے میں اساتذہ میں شدید غم و غصہ پیدا ہو گیا تھا اساتذہ تنظیموں کا کہنا تھا کہ سکولوں میں ناکافی سہولیات کی بدولت تمام ایس او پیز پر عملدرآمد نہیں کیا جاسکتا لیکن جہاں تک ممکن ہوسکتا ہے محدود وسائل میں ایس او پیز پر عمل درآمد کی کوشش کی جا رہی ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے