جرمنوں کے لیے دسمبر سب سے زیادہ جان لیوا مہینہ ثابت ہوا

جرمنوں کے لیے دسمبر سب سے زیادہ جان لیوا مہینہ ثابت ہوا ۔ کورونا وائرس کی وبا کی پہلی لہر کے دوران جرمنی میں کیے گئے اقدامات کو مثالی قرار دیا جاتا رہا۔ جرمنی میں وبا کا پھیلاؤ اور کووڈ انیس کے باعث ہلاکتوں کی تعداد مغربی یورپ کے دیگر ملکوں کی نسبت کافی کم رہی۔

تاہم اب دوسری لہر کے دوران صورت حال یکسر مختلف ہے۔ سن 2020 کا آخری مہینہ اب تک کا مہلک ترین مہینہ ثابت ہوا۔

تیزی سے بگڑتی صورت حال کا اندازہ اس بات سے بھی لگایا جا سکتا ہے کہ دسمبر کے مہینے میں مرنے والوں کی تعداد نومبر کے مہینے کی نسبت تین گنا زیادہ رہی۔

جرمنی کے روبرٹ کوخ انسٹی ٹیوٹ کے اعداد و شمار کے مطابق دسمبر کی 2 تاریخ سے لے کر یکم جنوری تک 16,718 مریض کووڈ انیس کی وجہ سے ہلاک ہوئے۔

واضح رہے کہ جرمنی میں کووڈ انیس کے اعداد و شمار اگلے روز جاری کیے جاتے ہیں۔

سن 2020 کے پورے سال کے دوران جرمنی میں کورونا وائرس کی وبا 33,071 کے لیے جان لیوا ثابت ہوئی تھی۔ یعنی سال کے باقی مہینوں میں مرنے والے مریضوں کی مجموعی تعداد سے بھی زیادہ مریض صرف دسمبر کے ایک مہینے میں ہلاک ہوئے۔

وبا کا پھیلاؤ خدشات سے بھی بڑھ کر
تین ماہ قبل ستمبر کے مہینے میں صرف 198 افراد کا انتقال ہوا تھا لیکن 30 دسمبر کے روز کے چوبیس گھنٹے 1,129 مریضوں کے لیے جان لیوا ثابت ہوئے۔

جرمن چانسلر انگیلا میرکل نے ستمبر کے مہینے میں ہی اس خدشے کا اظہار کیا تھا کہ کرسمس تک جرمنی میں کورونا وائرس کے یومیہ کیسز کی تعداد 19 ہزار سے زائد ہو سکتی ہے۔

حقیقی صورت حال اس سے کہیں زیادہ ابتر ثابت ہوئی۔ کرسمس کی شام جرمنی میں کورونا کے 32,195 کیسز رپورٹ ہوئے۔ یہ تعداد چانسلر میرکل کے بیان کردہ خدشات سے 70 فیصد زیادہ رہی۔

جرمنی میں سن 2020 کے مجموعی سال کے دوران 1,719,737 کیسز سامنے آئے اور ان میں سے 675,188 مریض صرف دسمبر کے مہینے میں رپورٹ ہوئے۔

لاک ڈاؤن کے مثبت نتائج اور ڈاکٹروں کی تشویش
جرمنی کی وفاقی حکومت اور وفاقی ریاستیں صورت حال پر نظر رکھے ہوئے تھیں اور علاقائی صورت حال کے مطابق مقامی سطح پر ہی سخت اقدامات متعارف کرائے جا رہے تھے۔

کرسمس اور نئے سال کے تہواروں کے باعث مارکیٹیں اور دکانیں کھلی رکھی جا رہی تھیں۔ لیکن تیزی سے بگڑتی صورت حال کے باعث 16 دسمبر سے ملک گیر لاک ڈاؤن نافذ کر دیا گیا جو 10 جنوری تک جاری رہے گا۔

ان اقدامات کے باعث جرمنی کی کچھ وفاقی ریاستوں میں کورونا وائرس کا پھیلاؤ کم تو ہوا لیکن باویریا اور سیکسنی جیسی زیادہ متاثرہ ریاستوں میں وبا کا پھیلاؤ اب بھی رک نہیں پایا۔

اس صورت حال میں جرمن ڈاکٹروں کی تنظیموں نے حکومت سے اپیل کی ہے کہ ملکی نظام صحت پر بے پناہ بوجھ کے پیش نظر مزید سخت اقدامات متعارف کرائے جائیں اور لاک ڈاؤن میں بھی توسیع کی جائے۔

وفاقی ریاستوں کے وزرا موجودہ صورت حال کو پیش نظر رکھتے ہوئے آئندہ ہفتے منگل کے روز اپنے اجلاس میں آئندہ کا لائحہ عمل ترتیب دیں گے۔

نئے برس کے آغاز سے قبل ہی جرمنی میں ویکسین مہم شروع کی جا چکی ہے۔ ابتدائی مرحلے میں معمر افراد اور طبی عملے کو ویکسین فراہم کی جا رہی ہے۔ تاہم ویکسین کی کم دستیابی کے باعث نئے برس کی پہلی سہہ ماہی کے دوران بھی صورت حال میں زیادہ بہتری کی امید نہیں ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے