جرمنی کا ایران پر جوہری مذاکرات شروع کرنے پر زور

جرمنی کا ایران پر جوہری مذاکرات شروع کرنے پر زور ۔ایران میں جون میں نئے صدر کے انتخاب کے بعد سے ہی جوہری مذاکرات تعطل کا شکار ہیں۔ ایران نے حالیہ مہینوں جس انداز سے اپنے جوہری پروگرام کو وسعت دی ہے اس پر عالمی برادری کو شدید فکر لاحق ہے۔


تفصیلات

جرمن وزارت خارجہ نے اپنے ایک بیان میں کہا ہے کہ وہ ایران پر اس بات کے لیے سخت زور دیتی ہے کہ وہ ان مذاکرات کو دوبارہ شروع کرے جس کا مقصد جوہری معاہدے کو بحال کرنا ہے۔ وزارت خارجہ کے ایک ترجمان کا کہنا تھا، ”ہم ایسا کرنے کے لیے تیار ہیں، تاہم اس کے لیے وقت کا دروازہ ہمیشہ نہیں کھلا رہے گا۔”

فرانس کی وزارت خارجہ نے بھی اسی طرح کا ایک بیان جاری کیا ہے جس میں ایران سے جوہری امور پر مذاکرات شروع کرنے کی بات کہی گئی ہے۔

سن 2015 میں امریکا، برطانیہ، فرانس، جرمنی، چین، روس اور یورپی یونین نے ایران کے ساتھ ایک معاہدہ کیا تھا، جس کے تحت ایران کی جوہری سرگرمیوں کو محدود کرنا اور اس کے بدلے میں اس پر عائد معاشی پابندیوں میں نرمی، کرنا تھا۔ یہ معاہدہ مشترکہ جامع منصوبے کے نام سے بھی معروف ہے، جس کا مقصد ایران کو جوہری ہتھیاروں کی تیاری سے باز رکھنا تھا

مشترکہ جامع منصوبے میں ایران میں یورینیم کی افزدگی کو محدود کرنے پر خاصا زور دیا گیا تھا۔ تاہم سابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے امریکا کو اس معاہدے سے سن2018میں یکطرفہ طور پر نکال لیا تھا اور ایران پردوبارہ سخت پابندیاں عائد کر دی تھیں۔ اس کے رد عمل میں ایران نے بھی معاہدے کی پاسداری نہ کرنے کا اعلان کیا۔

ٹرمپ کی صدارتی انتخابات میں شکست کے بعد جب جو بائیڈن نے اقتدار سنبھالا تب سے اس معاہدے کی از سر نو بحالی کی کوششیں ہو رہی ہیں۔ اس حوالے سے اپریل میں آسٹریا کے دارالحکومت ویانا میں بات چیت کا سلسلہ شروع کیا گیا، جس میں واشنگٹن بھی اپنے یورپی اتحادیوں کے توسط سے بالواسطہ طور پر شامل تھا۔ تاہم ایران میں سخت گیر موقف کے حامی نئے صدر ابراہیم رئیسی کی آمد کے بعد سے ہی یہ مذاکرات تعطل کا شکار ہیں۔

ایران نے الزامات مسترد کر دیے

ایران کے نئے وزیر خارجہ حسین عامر عبدالہیان نے کہا کہ دوسرے فریقوں کو اس بات سے اچھی طرح سے واقف ہونا چاہیے کہ نئی انتظامیہ کو اپنی ذمہ داریاں اچھی طرح سنبھالنے میں چند ماہ کا وقت لگتا ہے۔ انہوں نے اس تاثر کو بھی مسترد کیا کہ ایران اس حوالے سے مذاکرات سے بچنے کی کوشش کر رہا ہے۔

بائیڈن انتظامیہ نے بھی اس بات کے اشارے کیے تھے کہ اس بارے میں امریکی صدر جو بائیڈن براہ راست بات چیت کے لیے بھی تیار ہیں، تاہم ایرانی قیادت نے ابھی تک اس سلسلے میں نہ تو کوئی عندیہ دیا ہے اور نہی کوئی فیصلہ سامنے آیا ہے۔

سن 2018 میں جب سے امریکا نے اس معاہدے سے الگ ہونے کا اعلان کیا تب سے ایران نے بھی یورینیم کی افزدگی کی جو حد تھی اس کا پاس نہیں رکھا اور اس نے زیادہ بہتردرجے تک یورینیم افزدہ کر لیا۔ اس پر جرمنی، فرانس اور برطانیہ گہری تشویش کا اظہار کر چکے ہیں۔

لیکن ایران کی حکومت مسلسل اس بات سے انکار کرتی رہی ہے کہ اس کے نیو کلیئرپروگرام کا مقصد جوہری ہتھیار حاصل کرنا ہے۔ ایران کہتا ہے کہ اس کا جوہری پروگرام توانائی کے حصول اور پر امن مقاصد کے لیے ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے