جرمنی کی برطانیہ پر عائد سفری پابندیوں میں نرمی

جرمنی کی برطانیہ پر عائد سفری پابندیوں میں نرمی ۔ جرمنی میں چار ممالک سے متعلق نئے سفری اصول و ضوابط کا انحصار اب ویکسینیشن کی حیثیت پر منحصر ہو گا۔ اس تبدیلی سے جرمنی کا سفر کرنے والوں کے لیے کافی آسانیاں پیدا ہو جائیں گی۔
جرمنی نے کورونا وائرس کی روک تھام کے پیش نظر جو سفری پابندیاں عائد کر رکھی تھیں اس میں بعض تبدیلیاں کی گئی ہیں اور اس کے تحت بھارت، برطانیہ، روس، پرتگال اور نیپال کے لیے بعض پابندیوں میں نرمی کی گئی ہے۔

تفصیلات

جرمنی میں چار ممالک سے متعلق نئے سفری اصول و ضوابط کا انحصار اب ویکسینیشن کی حیثیت پر منحصر ہو گا۔ اس تبدیلی سے جرمنی کا سفر کرنے والوں کے لیے کافی آسانیاں پیدا ہو جائیں گی۔
جرمنی نے کورونا وائرس کی روک تھام کے پیش نظر جو سفری پابندیاں عائد کر رکھی تھیں اس میں بعض تبدیلیاں کی گئی ہیں اور اس کے تحت بھارت، برطانیہ، روس، پرتگال اور نیپال کے لیے بعض پابندیوں میں نرمی کی گئی ہے۔

معروف جرمن سائنسی ادارے رابرٹ کوخ انسٹیٹیوٹ نے اس حوالے سے پانچ جولائی پیر کے روز اپنی بعض نئی سفارشات شائع کی تھیں جس کی بنیاد پر یہ فیصلہ کیا گیا ہے۔ نئی ہدایات کی روشنی میں اب برطانیہ سے جرمنی آنے والے افراد کو قرنطینہ کی قدرے نرم شرائط پر عمل کرنا ہو گا۔ اس تبدیلی کا مطلب یہ ہوا کہ اب ان چار ممالک کا سفر کرنے میں بھی آسانی ہو گی۔

اس کے مطابق جن افراد نے دونوں ٹیکے لگوا لیے ہیں یا پھر جو افراد کووڈ 19 کے مرض میں مبتلا ہو کر مکمل طور پر صحت یاب ہو چکے ہیں انہیں جرمنی واپس پہنچنے پر قرنطینہ میں نہیں رہنا پڑے گا۔

کرونا ویکسین

جن افراد نے ویکسین نہیں لگوائی انہیں قرنطینہ میں رہنا ہو گا تاہم اب یہ مدت صرف دس روز کی ہو گی اور ایسے افراد کی اگر کورونا وائرس کی رپورٹ نگیٹیو آتی ہے تو انہیں دس کے بجائے صرف پانچ دن کے اندر ہی جانے کی اجازت ہو گی۔

اس سے قبل تک ان چاروں ممالک سے واپس آنے والے افراد کو، بلا کسی تفریق کے ان کی کورونا کی صورت حال کیا ہے، جرمنی پہنچ کر لازماً 14 روز کے قرنطینہ سے گزرنا پڑتا تھا۔ صرف جرمن شہریوں کو ہی ان ممالک سے واپس آنے کی اجازت تھی جبکہ ان ممالک کے شہریوں کا اب تک جرمنی میں داخلہ ممنوع تھا۔

گزشتہ جمعے کو جرمن چانسلر انگیلا میرکل اور برطانوی وزیر اعظم بورس جانسن کے درمیان بات چیت ہوئی تھی جس کے بعد ان اقدامات کا فیصلہ کیا گیا۔ اس پر سات جولائی بدھ کے روز سے عمل شروع ہو گا۔ جرمن وزیر صحت جینز اسپہان نے گزشتہ ہفتے ہی اس حوالے سے بعض پالیسیوں میں تبدیلی کا اشارہ کیا تھا۔

خدشات

برلن میں حکام نے اس بات پر خدشات کا اظہار کیا تھا کہ برطانوی شہریوں کی آمد سے بہت زیادہ متعدی قسم کا وائرس ڈیلٹا پھیل سکتا ہے۔ واضح رہے کہ ڈیلٹا ویریئنٹ سب سے پہلی بار بھارت میں دریافت ہوا تھا۔

لیکن اب یہ نیا وائرس یورپ میں بھی موجود ہے اور اسی لیے جرمنی نے کورونا وائرس کے انفیکشن کے لیے برطانیہ کا درجہ کم کرتے ہوئے اس کی ”زیادہ واقعات والے علاقے” کے طور پر درجہ بندی کر دی ہے۔ اس سے قبل تک جرمنی نے برطانیہ کی نئے قسم کے وائرس والے علاقے یعنی ”وائرس ویریئنٹ ایریا” کے طور پر درجہ بندی کر رکھی تھی۔

سفری قوانین میں تبدیلی

جرمنی نے اب بھی دنیا کے گیارہ ممالک کو ”وائرس ویریئنٹ ایریا” قرار دے رکھا ہے جس میں، بوتسوانا، برازیل، ایسٹونیا، ملاوی، موزمبیق، نامیبیا، زامبیا، زمبابوے، جنوبی افریقہ، اور یوروگوئے شامل ہیں۔

حالیہ ہفتوں میں جرمنی میں کورونا وائرس سے انفیکشن کی شرح میں کافی کمی دیکھی گئی ہے اور حالات پہلے سے کافی بہتر ہوئے ہیں تاہم نئے قسم کے وائرس کے کیسز میں اضافے سے تشویش بھی پائی جاتی ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے