جرمنی کے کلینک میں نیاکرونا وائرس پہنچ گیا، ہسپتال قرنطینہ کردیا گیا

جرمنی کے کلینک میں نیاکرونا وائرس پہنچ گیا، ہسپتال قرنطینہ کردیا گیا ۔ برلن(جرمنی) کے ہمبولٹ کلینک میں نیا وائرس پہنچ گیا، ہسپتال قرنطینہ کردیا گیا ۔ ہمبولٹ کلینک، جو برلن کے تمام ہسپتالوں کے انتظامات کے ذمہ دار ادارے ‘ویوینٹس گروپ‘ کا حصہ ہے، کوقرنطینہ کردیا گیا ہے۔ یہ ایک ایسا اقدام ہے جو جرمنی میں اس سے پہلے کبھی نہیں کیا گیا۔

وجہ: ہمبولٹ ہسپتال کے کارڈیالوجی وارڈ میں مریضوں اور عملے کے اراکین میں پہلی بار COVID-19 وائرس کی کہیں زیادہ متعدی اور کہیں زیادہ مہلک تبدیل شدہ قسم B.1.1.7 جو”انگلینڈ‘‘ سے پھیلنا شروع ہوئی، کے متعدد کیسز سامنے آئے ہیں۔

جرمن دارالحکومت برلن جو موسم خزاں میں کورونا کا گڑھ بنا ہوا تھا، وبائی امراض کی دوسری لہر سے بہت کامیابی سے نمٹ رہا ہے۔ حال ہی میں نئے متاثرہ افراد کی تعداد میں تیزی سے کمی بھی واقع ہوئی اور گزشتہ سات روز کے دوران یومیہ 100 سے زائد کے قریب کیسز کے ساتھ ہسپتالوں میں قومی سطح پر بھی شدید نوعیت کے کیسز میں کمی آئی ہے۔

برلن کے ہمبولٹ کلینک میں نیا وائرس پہنچ گیا۔ ہمبولٹ کلینک، جو برلن کے تمام ہسپتالوں کے انتظامات کے ذمہ دار ادارے ‘ویوینٹس گروپ‘ کا حصہ ہے، کوقرنطینہ کردیا گیا ہے۔ یہ ایک ایسا اقدام ہے جو جرمنی میں اس سے پہلے کبھی نہیں کیا گیا۔

وجہ: ہمبولٹ ہسپتال کے کارڈیالوجی وارڈ میں مریضوں اور عملے کے اراکین میں پہلی بار COVID-19 وائرس کی کہیں زیادہ متعدی اور کہیں زیادہ مہلک تبدیل شدہ قسم B.1.1.7 جو”انگلینڈ‘‘ سے پھیلنا شروع ہوئی، کے متعدد کیسز سامنے آئے ہیں۔

جرمن دارالحکومت برلن جو موسم خزاں میں کورونا کا گڑھ بنا ہوا تھا، وبائی امراض کی دوسری لہر سے بہت کامیابی سے نمٹ رہا ہے۔ حال ہی میں نئے متاثرہ افراد کی تعداد میں تیزی سے کمی بھی واقع ہوئی اور گزشتہ سات روز کے دوران یومیہ 100 سے زائد کے قریب کیسز کے ساتھ ہسپتالوں میں قومی سطح پر بھی شدید نوعیت کے کیسز میں کمی آئی ہ

ہر دوسرا کیس برلن میں

اب تک کی اطلاعات کے مطابق جرمنی میں وائرس کی تبدیل شدہ شکل B.1.1.7 کے ساتھ انفیکشن کے 51 واقعات میں سے 24 برلن میں پیش آئے۔

یہ اطلاعات رابرٹ کوخ انسٹی ٹیوٹ سے ملی ہیں۔
برلن کے اعداد و شمار کا اعلان پیر 25 جنوری کو ہسپتالوں کی انتظامیہ کے گروپ کی ایک پریس کانفرنس میں کیا گیا۔ سب سے پہلا کیس گزشتہ ہفتے پیش آیا تھا، جب صورتحال زیادہ پیچیدہ ہونا شروع ہوئی۔ مذکورہ ہسپتال نے تب سے ہی احتیاطی تدابیراورآمد ورفت میں سختی میں اضافہ کر دیا تھا اور رابرٹ کوخ انسٹیٹیوٹ نے برلن کے صحت کے دیگر اداروں کے ساتھ مل کر نئے’انفیکشن کلسٹر‘ کے پھیلاؤ پر سخت نظر رکھنے کے سبب ہمبولٹ ہسپتال کے ساتھ تمام روابط کو ٹریک کرنا شروع کر دیا تھا۔

ہسپتال میں داخلہ بند

640 بستروں پر مشتمل، ہمبولٹ کلینک کوئی چھوٹا ادارہ نہیں ہے۔ برلن کے شمال مغربی حصے میں ہنگامی طبی فراہمی کے لیے، سب سے اہم کردار ادا کرتا ہے تاہم اب یہاں داخلہ بالکل بند کردیا گیا ہے۔ لگ بھگ 17 ہزار اسٹاف ممبرز یا ہسپتال کے ملازمین کو قرنطیہ کا حکم دیا گیا ہے۔ اس کا مطلب ہے کہ ہسپتال کے ملازمین کو صرف کام پرآنے اور وہاں سے سیدھے گھرجانے کی اجازت ہوگی۔

جو ملازمین عام طور پر بس یا ٹرین کے ذریعہ کام پر آتے تھے، ان کے لیے برلن ریاستی انتظامیہ نے ایک ٹرانسپورٹ سروس کا اہتمام کیا ہے۔
ہسپتال میں 400 سے زیادہ مریضوں کا علاج کیا جا رہا تھا، جو صحت مند ہیں۔ انہیں گھر پر قرنطینہ میں رہنے کی تاکید کی گئی ہے۔ برلن کے محکمہ صحت کے طبی آفیسر پیٹرک لارشائیڈ نے کہا، ’’ہم ہسپتال کو خالی مگر چلتا رکھیں گے۔اب یہ ایک معمول کا طریقہ کار ہے۔‘‘

نئے وائرس پر قابو پانے کے لیے اقدامات

رابرٹ کوخ انسٹی ٹیوٹ کی طرف سے حال ہی میں بتایا گیا ہے کہ اس بات کا کوئی ثبوت نہیں ہے کہ B.1.1.7 زیادہ سنگین بیماریوں کا باعث بنتا ہے۔ علاوہ ازیں بیونٹیک / فائزر کی تیار کردہ ویکسین بھی اس کی مختلف حالتوں میں مؤثر ثابت ہوئی ہے۔

جرمنی میں ابھی تک وائرس کی اس مختلف یا تبدیل شدہ قسم کی کوئی منظم کھوج کا کام نہیں ہو سکا ہے۔

ایسا کرنے کے لیے، COVID-19 مثبت نمونے کی سیکوئنسنگ ایک پیچیدہ انداز میں کی جاتی ہے۔ زیادہ تر جرمن لیبارٹریوں میں ایسا کرنے کی سہولیات میسر نہیں ہیں۔ اب فروری میں ”جرمن الیکٹرانک سیکوئینس ڈیٹا حب‘‘ تیار کیا جانا ہے، جو ڈیٹا کی منتقلی کا یکساں پلیٹ فارم ہوگا۔ یورپ میں، بڑے پیمانے پر COVID-19 پوزیٹیو سیکوئنسنگ صرف ڈنمارک اور برطانیہ میں عام ہے۔
ایک حکومتی ترجمان کے مطابق، ”جرمن وفاقی حکومت کو یورپ کے دیگر ممالک کی طرح ایک بہت بڑا اورانتہائی حقیقی خطرہ لاحق ہے۔ انہوں نے کہا، ”ہمارے ملک کے ساتھ ساتھ دوسرے ممالک میں بھی وائرس میں ‘میوٹیشن‘ کا خطرہ برقرار رہے گا۔ انفیکشن کی تعداد کو جلد کم کرنا سب سے زیادہ ضروری ہے کیونکہ کیسز کی تعداد کم ہونے کے بعد ہی ہم تغیر پزیر وائرس کے پھیلاؤ کو روکنے میں کامیاب ہوں سکیں گے۔‘‘شولس کے الکسزانڈر

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے