جرمن: افراط زر میں ہوشربا اضافہ، اشیاء مہنگی

جرمن: افراط زر میں ہوشربا اضافہ، اشیاء مہنگی ہو گئیں۔ رواں برس اگست میں بھی جرمنی میں اِنفلیشن یا افراطِ زر کی شرح میں اضافے کا رجحان جاری رہا اور اس باعث عام اشیاء کی قیمتیں بڑھی ہیں۔

وفاقی دفترِ شماریات کے مطابق رواں برس عام اشیاء کی قیمتوں میں ہونے والا اضافہ اب 3.9 فیصد تک پہنچ گیا ہے۔ معاشی ماہرین کا خیال ہے کہ اگلے مہینوں میں قیمتوں میں اضافے کا یہ رجحان جاری رہ سکتا ہے کیونکہ فی الحال افراطِ زر کی سالانہ شرح کے تھمنے کا امکان دکھائی نہیں دے رہا اور اس کے مسلسل بڑھنے سے مہنگائی بھی بڑھتی رہے گی۔

پچھلی ایک چوتھائی صدی میں افراطِ زر میں ہونے والا یہ سب سے زیادہ اضافہ ہے۔

آخری مرتبہ جرمنی میں اِنفلیشن کی سالانہ شرح سن 1993 میں بڑھی تھی، جب یہ 4.3% تک پہنچ گئی تھی۔

عام اشیاء کی قیمتوں میں اضافہ

یورپ کی سب سے بڑی اقتصادیات کے حامل ملک جرمنی میں افراطِ زر کے بڑھنے کی وجہ سے پیٹرول اور گیس کی قیمتوں میں اضافے کے ساتھ ساتھ اشیائے خور و نوش بھی مہنگی ہو گئی ہیں۔

مہنگائی کی ایک اور وجہ میرکل حکومت کی جانب سے عارضی طور ویلیو ایڈڈ ٹیکس (VAT) یا وَیٹ میں کی گئی کمی کو ختم کرنا بھی قرار دیا جا سکتا ہے۔ برلن حکومت نے کورونا وبا کے تناظر میں وَیٹ میں محدود مدت کے لیے کمی کی تھی۔

مہنگائی بڑھتی رہے گی

ماہرینِ اقتصادیات نے امکان ظاہر کیا ہے کہ اگلے مہینوں میں روز مرہ کی اشیاء کی قیمتوں میں اضافے کا رجحان جاری رہے گا اور عام صارفین کو اس اضافے کا بوجھ محسوس ہو گا۔

بعض ماہرین نے اندازہ لگایا ہے کہ جرمنی میں افراطِ زر کی شرح پانچ فیصد تک پہنچنے کے قوی امکانات ہیں۔

کورونا اور جرمن معیشت:

دوسری جانب قرضہ دینے والے بڑے جرمن بینک کے ایف ڈبلیو (KfW) کی چیف اکانومسٹ کرسٹین فولک کا کہنا ہے کہ افراطِ زر کی بڑھی ہوئی شرح مستقل نہیں بلکہ عارضی ہے اور یہ یقینی طور پر کم ہو گی، جس کے بعد قیمتوں میں بھی کمی ہو گی۔

کرسٹین فولک کا مزید کہنا ہے کہ یورپی سینٹرل بینک کی طے کردہ اصولوں کے تحت افراطِ زر کی سالانہ شرح دو فیصد پر رکھنا لازمی ہے اور امکان ہے کہ جرمن معاشی افق پر افراطِ زر کی شرح واپس دو فیصد پر لوٹ آئے گی۔

آیا افراطِ زر عارضی ہے
بڑھتے ہوئے افراطِ زر سے مطلب یہی اخذ کیا جاتا ہے کہ ملکی معیشت پر بوجھ ہے، جس کی وجہ سے عام اشیاء کی قیمتوں میں اضافہ دیکھا جاتا ہے اور اس سے مراد مہنگائی ہے۔

انتہائی کمزور معاشی صورت حال میں افراطِ زر کی شرح سالانہ نہیں بلکہ ماہانہ بنیادوں پر نوٹ کی جاتی ہے۔ ایسے حالات میں ماہانہ شرح پچاس فیصد تک بھی جا سکتی ہے۔

آنے والے مہینے بہت سخت ہوں گے: جرمن چانسلر

ایسی اقتصادی گراوٹ جرمن قوم نے سن 1920 میں دیکھی تھی اور تب ہائپر اِنفلیشن کی وجہ شدید نوعیت کی سیاسی بحرانی کیفیت تھی۔

اِس بحرانی اور معاشی بے چینی و سیاسی بے سکونی کی وجہ سے جرمنی کو شدید ترین اقتصادی مشکلات کا سامنا کرنا پڑا تھا۔ ان پریشان کن حالات کا فائدہ اٹھا کر نازی سوشلسٹوں نے حکومت حاصل کی تھی۔
جرمنی کے تمام اہم بینکوں کا خیال ہے کہ افرطِ زر کی موجودہ شرح کچھ عرصے بعد گھٹ جائے گی اور مہنگائی کی موجودہ سطح میں بھی کمی ہو گی۔ ان ماہرین نے اس صورت حال کو عالمی کورونا وبا کے معاشیات پر گرنے والے اثرات سے نتھی کیا ہے۔ ان کے مطابق وبا کی وجہ سے اقتصادی رفتار کا سست ہونا یقینی تھا اور اب اس کے اثرات ظاہر ہونا شروع ہوئے ہیں۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے