جرمن عجائب گھر میں مہاجرین کی رنگ برنگی کہانیاں پیش کردی گئیں

جرمن عجائب گھر میں مہاجرین کی رنگ برنگی کہانیاں پیش کردی گئیں ہیں۔جرمن بندرگاہی شہر بریمر ہافن میں قائم ایک عجائب گھر مہاجرت سے متعلق دلچسپ کہانیاں لیے لاتعداد شائقین کی دلچسپی کا مرکز ہے۔

یوہانا 1853ء میں امریکا چلی گئی تھی۔ احمد 2015ء میں شام سے فرار ہو کر جرمنی پہنچا ہے۔ بس یہ دو کہانیاں ہی جرمنی کے اس امیگریشن سینٹر نامی عجائب گھر کا دورہ کرنے والے زیادہ تر شائقین کی غیر معمولی دلچسپی کا سبب بنتی ہیں۔

نئی دنیا کی تلاش

انسانی فطرت کے عین مطابق ”خوشگوار زندگی کی تلاش‘‘ صدیوں سے لاتعداد انسانوں کو اپنا وطن ترک کر کے کسی دوسرے ملک کا رُخ کرنے پر مجبور کرتی آئی ہے۔ جرمن امیگریشن سینٹر نامی یہ میوزیم، 2005ء سے شمالی جرمن شہر بریمر ہافن میں مہاجرت سے متعلق دلچسپ کہانیاں لیے شائقین کے لیے اپنے دروازے کھولے ہوئے ہے۔

یہ عجائب گھر بنیادی طور پر تارکین وطن سے متعلق ہے۔ اس تاریخی شہر میں قائم کیے گئے اس عجائب گھر کی ڈائریکٹر معروف جرمن مورخ زیمون بلاشکے ہیں۔ وہ ترک وطن اور مہاجرت کے امور کی محقق بھی ہیں۔ متعدد کتابوں کی مصنفہ بلاشکے کی پیدائش اور پرورش بریمر ہافن میں ہی ہوئی تاہم انہوں نے امریکا اور کینیڈا میں ترک وطن اور مہاجرت کے موضوع پر ایک طویل عرصے تک ریسرچ کی ہے۔

ان کی کتاب ” ایک نئی دنیا میں: جرمن تارکین وطن کی تین صدیاں‘‘بہت مقبول ہوئی۔ اس میوزیم کے بارے میں ڈائریکٹر بلاشکے کہتی ہیں،” 2005 ء میں جب اس میوزیم کے دروازے شائقین کے لیے کھول دیے گئے تھے تب سے یہاں کا مرکزی موضوع ” ترک وطن‘‘ ہی تھا۔

انہوں نے بتایا کہ 1830ء سے لے کر 1974ء کے درمیان بریمر ہافن کی تاریخی بندرگاہ سے بہتر لاکھ انسان بحری جہازوں پر سوار ہو کر بیرون ملک کسی بہتر زندگی کی تلاش میں نکلے۔

زیمون کہتی ہیں،” انیسویں صدی میں جرمنی کی آبادی میں تقریباً دوگنا اضافہ ہوا تھا اور اس کے نتیجے میں روزگار کی منڈی پر جو بوجھ پڑا تھا، اس کا اندازہ لگایا جا سکتا ہے۔ جرمنی میں لوگوں کو اپنا کوئی مستقبل نظر نہیں آ رہا تھا چنانچہ انہوں نے ہجرت کا فیصلہ کیا۔‘‘ زیمون بتاتی ہیں کہ بحری جہاز کے سفر کے اخراجات ایک کاریگر کی سالانہ تنخواہ کے برابر تھے،” اس سفر کے متحمل ہونے کے لیے ایک کنبے کو اپنا تمام مال و متاع بیچنا پڑتا تھا۔ ایک غیر یقینی مستقبل کے لیے دیار غیر کی طرف رُخ کرنا، بہت بڑا قدم تھا تب بھی انسان اتنے بڑے خطرات مول لینے کو تیار تھے۔

جرمنی میں خوش آمدید

میوزیم میں موجود نمائشی اشیاء محض جرمنی اور مشرقی یورپ سے نقل مکانی کرنے والوں کی کہانیاں نہیں سناتی ہیں بلکہ یہ 300 سال پر محیط جرمنی آنے والے تارکین وطن کا بھی پتا دیتی ہیں۔ اس کے لیے ‘ ویلکم ان جرمنی یا جرمنی میں خوش آمدید‘ کے موٹو کے تحت اس میوزیم کے ایک حصے میں علیحدہ نمائش کا اہتمام کیا گیا ہے۔ 17 ویں صدی میں فرانس میں ظلم وستم کا نشانہ بننے والے اقلیتی گروپ ‘ہوگونوٹس‘ کا معاملہ ہو یا ترکی، یونان اور اٹلی سے آئے ہوئے مہمان کارکنوں کا، جنہیں 1960ء کی دہائی میں نوخیز جرمن جمہوریہ نے اپنے ہاں بلایا تھا، ان سب کی کہانیاں اس میوزیم میں موجود ہیں۔ اس عجائب گھر میں آپ کو دیر سے گھر لوٹنے والے روسی باشندوں، سابق یوگوسلاویا کے مہاجرین اور آمرانہ دور کے مظالم سے تنگ آکر پناہ کی تلاش میں چلی سے جی ڈی آر یا سابق مشرقی جرمنی آنے والے پناہ گزینوں تک کی کہانیاں سننے اور دیکھنے کو ملیں گے۔

حالیہ سالوں میں شام، افغانستان اور بہت سارے افریقی ممالک کے پناہ کے متلاشیوں کی ایک بڑی تعداد نے جرمنی کا رُخ کیا اور اب وہ یہاں قیام کے اجازت نامے کے منتظر ہیں۔ پناہ کے متلاشی ان لاکھوں افراد کا مستقبل جرمنی میں ایک مرکزی موضوع کی حیثیت اختیار کر چُکا ہے۔ کئی سالوں سے ہجرت اور سیاسی پناہ کے امور جرمنی میں سماجی اور معاشرتی تنازعات کا سبب بنے ہوئے ہیں۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے