حج کا اہم ترین رکن وقوف عرفہ آج ادا کیا جائے گا

حج کا اہم ترین رکن وقوف عرفہ آج ادا کیا جائے گا ۔ اس مرتبہ صرف ساٹھ ہزار مسلمان فریضہ حج ادا کر رہے ہیں جبکہ عا م طور پر تقریباً تیس لاکھ مسلمان دنیا بھر سے حج کے لیے مکہ مکرمہ آتے تھے۔
مسلمان آج پیر کے روز حج کا سب سے اہم رکن، وقوف عرفہ ادا کر رہے ہیں۔ جن ساٹھ ہزار افراد کو حج کی اجازت ملی تھی وہ آج صبح سے ہی میدان عرفات میں جمع ہونے لگے ہیں۔ یہ دوسرا سال ہے کہ جب کورونا وبا کی وجہ سے مسلمانوں کے اس مذہبی فریضے کو ادا کرنے کی محدود پیمانے پر اجازت دی گئی ہے۔

حج کے فرائض کی ادائیگی میں وقوف عرفات کو مرکزی حیثیت حاصل ہے۔ قیام عرفات کو حج کا نقطہ عروج بھی قرار دیا جاتا ہے۔ حج شروع ہونے کے دوسرے دن تمام زائرین منیٰ سے ظہر کی نماز سے قبل عرفات کے میدان پہنچ جاتے ہیں۔ عرفات کا میدان مکہ کے مقدس شہر سے بیس کلومیٹر کی دوری پر مشرق کی طرف واقع ہے۔ یہیں جبل رحمت ہے۔ پیغمبر اسلام نے اسی پہاڑ پر اپنا آخری خطبہ دیا تھا۔

وادی عرفات میں قیام کے دوران خطبہ حج کو سننا بھی اہم ہے۔ حج کا خطبہ مسجد حرم کے امام شیح بندر بن عبد العزیز بلیلہ دیں گے۔ اس سال اردو سمیت دس زبانوں میں خطبہ کا ترجمہ کیا جائے گا۔ اسے انٹرنیٹ اور دیگر ذرائع سے براہ راست نشر بھی کیا جائے گا۔

میدان عرفات پہنچنے سے قبل زائرین نے منیٰ میں خیموں میں رات بسر کی۔ عرفات میں خطبہ حج سننے کے بعد ظہر اور عصر کی نمازیں ایک ساتھ ادا کی جائیں گی۔ حج کے ارکان کے مطابق زائرین نمازوں کی اکھٹی ادائیگی کے بعد اگلی منزل مزدلفہ کی جانب روانہ ہو جاتے ہیں۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے