حکومت کا بیرون ملک پھنسے پاکستانیوں کو واپس لانے کے لیے آپریشن شروع۔

حکومت کا بیرون ملک پھنسے پاکستانیوں کو واپس لانے کے لیے آپریشن شروع۔مختلف ایئر لائنز کی بین الاقوامی پروازیں بند ہونے کے بعد یورپ اور دیگر ممالک سے آنے والے کئ پاکستانی مسافر ایئر پورٹس پر پھنس گئے ہیں جنہیں واپس لانے کے لیے حکومت نے کل سے فضائی آپریشن شروع کرنے کا اعلان کردیا ہے۔

تفصیلات کے مطابق کئی بین الاقوامی ایئر لائنز نے پاکستان کے لئے اپنی پروازیں منسوخ کر دی تھیں جس کے بعد اوورسیز پاکستانی جنہوں نے مہنگے داموں ٹکٹ خرید رکھے تھے انہیں انتہائی مشکلات کا سامنا تھا ان میں سے کئی افراد ایئرپورٹ پر پھنس گئے تھے۔اوورسیز پاکستانیوں نے وزیراعظم پورٹل پر شکایت درج کرنے کے ساتھ حکومتی اداروں کو بھی مدد کی اپیل کی تھی ۔

اوورسیز پاکستانیوں کی شکایات کے بعد سول ایوی ایشن اتھارٹی حرکت میں آئی اور جمعہ کے روز سول ایوی ایشن اتھارٹی نے مختلف ایئرلائنز کو شوکاز نوٹس جاری کیے تھے۔جس میں کہا گیا تھا کہ مسافروں کو ہر طرح سے سہولت فراہم کی جائے اور ان کے نقصانات کا ازالہ کیا جائے۔

اب حکومت نے ایئرپورٹ پر پھنسے پاکستانیوں کو عید سے قبل واپس لانے کے لیے کل سے فضائی آپریشن شروع کرنے کا اعلان کیا ہے۔ اسلام آباد میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے وزیر ہوا بازی غلام سرور خان کا کہنا تھا کہ” وزیراعظم پاکستان عمران خان کا دل اوورسیزپاکستانیوں کے ساتھ دھڑکتا ہے انہیں اوورسیز پاکستانیوں کی مشکلات کا احساس ہے لہٰذا وزیراعظم کی حکم پر کل سے پاکستانیوں کو واپس لانے کے لئے خصوصی فضائی آپریشن شروع کیا جائے گا جس میں 18خصوصی پروازوں کے ذریعے پاکستانیوں کو واپس لایا جائے گا”۔

انہوں نے کہا کہ بیرون ملک سے پاکستانیوں کو واپس لانے کیلئے تمام انتظامات مکمل ہیں اور پی آئی اے دوبئ ،بحرین اور قطر سے پروازیں آپریٹ کرے گی۔ گلف ممالک سے یہ پروازیں اسلام آباد لاہور اور کراچی کے لیے آپریٹ کی جائیں گی۔پی آئی اے آپریشن کے لیے بوئنگ 777 طیارے استعمال کرے گا۔

غلام سرور خان کا کہنا تھا کہ پانچ اورچھ جولائی کوان پروازوں کے ذریعے تین ہزار پاکستانیوں کو واپس لایا جائے گا۔جبکہ 6 سے 18 جولائی کے درمیان ان پروازوں کے ذریعے دوہا سے 2000مسافروں کو واپس لایا جائے گا۔ انہوں نے مزید کہا کہ کوشش ہوگی کہ عید سے قبل گلف ممالک میں پھنسے تمام مسافروں کو واپس لایا جاسکے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے