دنیا بھر میں کروناکے کیسز 20 کروڑ سے تجاوز کر گئے

دنیا بھر میں کروناکے کیسز 20 کروڑ سے تجاوز کر گئے ۔ترقی يافتہ ممالک ميں کورونا سے بچاؤ کی ویکسینیشن مہمات تیزی سے جاری ہيں، جس سبب اس مہلک مرض کے متاثرين ميں اضافے کے باوجود اس سے ہلاک ہونے والوں کی شرح میں کمی آ رہی ہے۔
کورونا وائرس کے متاثرين کی تعداد جمعرات کے روز بیس کروڑ سے تجاوز کر گئی ہے۔ تاہم دولت مند ملکوں میں ویکسینیشن مہمات میں تیزی کی وجہ سے حالیہ ہفتوں کے دوران کورونا سے ہلاک ہونے والوں کی شرح میں گراوٹ آئی ہے۔

خبر رساں ایجنسی اے ایف پی کے مطابق دسمبر 2019 میں مبينہ طور پر چین سے پھيلنے والے کورونا وائرس کے متاثرین کی تعداد جمعرات کے روز بیس کروڑ سے تجاوز کر گئی۔ اس وبا کی نئی شکل ڈیلٹا کی وجہ سے متاثر ہونے والے افراد کی تعداد میں اچانک تیزی آ گئی ہے البتہ اموات کی شرح میں گراوٹ آئی ہے۔

تازہ ترین اعداد و شمار کے مطابق کورونا سے دنیا بھر میں اب تک بیس کروڑ سترہ لاکھ بارہ ہزار 187افراد متاثر ہوئے ہیں جبکہ اس مہلک مرض سے دنیا بھر میں بیالیس لاکھ اسی ہزار 618 افراد کی موت واقع ہو چکی ہے۔

پاکستان کی صورت حال

پاکستان میں گزشتہ چوبیس گھنٹوں کے دوران ملک بھر میں کورونا ٹيسٹ مثبت آنے کی شرح آٹھ فیصد زیادہ ہو گئی ہے۔ تازہ اعداد و شمار کے مطابق پاکستان میں کووڈ انیس کے متاثرین کی تعداد دس لاکھ ساٹھ ہزار کے قریب پہنچ گئی ہے۔ پاکستان میں کورونا سے گزشتہ چوبیس گھنٹوں میں 67 افراد کی موت واقع ہوئی، جس کے ساتھ ہی کورونا سے ہلاک ہونے والوں کی مجموعی تعداد تیئس ہزار 702 ہو گئی ہے۔

ویکسینیشن سے شرح اموات میں کمی

اے ایف پی کے مطابق دنیا بھر میں اور بالخصوص دولت مند ملکوں میں، کووڈ انیس کا ویکسین لگوانے والوں کی تعداد میں اضافے کے ساتھ ساتھ اس وبا سے ہلاک ہونے والوں کی تعداد میں کمی آ رہی ہے۔ اعداد و شمار کے مطابق جولائی کے بعد سے اس میں 20 فیصد کی کمی آئی ہے۔

اس دوران چینی صدر شی جن پنگ نے کہا کہ چین دنیا کو ویکسین کی دو ارب خوراک دینے کی کوشش کرے گا۔ انہوں نے غریب ملکوں کو ویکسین مفت میں فراہم کرنے کے لیے عالمی تنظیم کوویکس سسٹم کو 100ملین کی مالی مدد دینے کا بھی وعدہ کیا ہے۔

ویکسین لگوانے میں جھجھک

ماہرین صحت کا کہنا ہے کہ غیر ملکی ویکسین کے تئیں شکوک و شبہات اور اس کے منفی ضمنی اثرات کے خوف کی وجہ سے کووڈ ویکسین لگوانے میں جھجھک کے سبب افریقہ کی ایک اعشاریہ تین ارب کی آبادی میں کورونا کی وبا کافی دنوں تک موجود رہ سکتی ہے۔ عالمی ادارہ صحت (ڈبلیو ایچ او) کا کہنا ہے کہ افریقہ میں یکم اگست تک ایک ہفتے کے دوران 6400 نئی اموات درج ہوئیں جو اس وبا میں اب تک کی سب سے بڑی تعداد ہے۔

آسٹریلیا میں لاک ڈاون

آسٹریلیا کی پچیس ملین کی آبادی میں سے سے کوئی دو تہائی کو جمعرات کے روز سے ایک بار پھر لاک ڈاؤن میں جانا پڑ گيا ہے۔

جرمنی: صورت حال

وکٹوریا کے وزیر اعلی ڈینیئل انڈریوز نے کہا کہ ان کے پاس اس کے علاوہ کوئی اور راستہ نہیں رہ گیا تھا کہ وہ شہر او ریاست میں ایک بار پھر لاک ڈاؤن لگا دیں۔ کوئی ایک ہفتے قبل ہی یہاں سے لاک ڈاؤن ختم کیا گیا تھا۔ اس دوران تقریباً دو ہزار مظاہرین نے سڑکوں پر مارچ کیا اور ‘مزید لاک ڈاؤن نہیں‘ کے نعرے لگائے۔ پولیس نے کئی مظاہرین کو گرفتار بھی کیا ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے