دنیا کے ایک ارب انسان بھوک کے مسئلے کا شکار

دنیا کے ایک ارب انسان بھوک کے مسئلے کا شکار ہیں ۔تازہ ترین ورلڈ ہنَگر انڈکس کے مطابق دنیا بھر میں اس وقت تقریباﹰ ایک ارب انسانوں کو بھوک کے مسئلے کا سامنا ہے۔ گزشتہ برسوں میں عالمی سطح پر بھوک کا مسئلہ کچھ کم ہو گیا تھا مگر اب اس میں دوبارہ شدت آتی جا رہی ہے۔
عالمی سطح پر بھوک کے خاتمے کے لیے کوشاں جرمنی کی ایک غیر سرکاری تنظیم ‘وَیلٹ ہُنگر ہِلفے‘ (Welthungerhilfe) کے رواں برس کے لیے جاری کردہ انڈکس کے مطابق اس وقت بین الاقوامی سطح پر آٹھ سو گیارہ ملین سے زائد انسانوں کو بھوک کا مسئلہ درپیش ہے، جن میں سے اکتالیس ملین کے لیے یہ صورت حال عنقریب بحرانی صورت اختیار کر سکتی ہے۔

کم ہوتی ہوئی بھوک پھر بڑھنے لگی

ورلڈ ہَنگر ہیلپ کے سیکرٹری جنرل ماتھیاس مَوگے نے جمعرات چودہ اکتوبر کے روز جرمن دارالحکومت برلن میں اپنی تنظیم کا ورلڈ ہَنگر انڈکس 2021ء جاری کرتے ہوئے کہا کہ گزشتہ برسوں میں دنیا میں بھوک کے مسئلے میں کچھ کمی آئی تھی مگر اب اس میں دوبارہ شدت آتی جا رہی ہے۔

آپ کا کردار آپ کے کھانے کی پلیٹ میں!

ماتھیاس مَوگے نے کہا، ”2020ء میں زمین پر 811 ملین انسان ایسے تھے جنہیں مستقل بنیادوں پر بھوک اور کم خوراکی کا سامنا تھا۔‘‘ انہوں نے عالمی برادری خاص طور پر امیر اور ترقی یافتہ ممالک کے سیاست دانوں سے مطالبہ کیا کہ وہ مختلف بحرانوں کے باعث پیدا ہونے والی اشیائے خوراک کی قلت پر قابو پانے کے لیے نتیجہ خیز اقدامات کریں۔
اس موقع پر ورلڈ ہَنگر ہیلپ کی خاتون صدر مارلیہن تِھیمے نے کہا کہ بین الاقوامی سطح پر مسلح تنازعات، کئی طرح کے بحرانوں اور جنگوں کی وجہ سے انسانیت کو درپیش بھوک کا مسئلہ دوبارہ شدید ہو چکا ہے۔ ان کے مطابق 2019ء میں پوری دنیا میں تقریباﹰ 690 ملین انسانوں کو پیٹ بھر کر کھانا نہیں ملتا تھا لیکن گزشتہ برس یہ تعداد بڑھ کر 811 ملین ہو گئی۔

‘بھوک قتل کی ایک صورت ہے‘

برلن میں امسالہ ورلڈ ہَنگر انڈکس کے اجراء کی تقریب کے موقع پر جرمن سیاسی جماعت کرسچن سوشل یونین سے تعلق رکھنے والے ترقیاتی امداد کے وفاقی جرمن وزیر گیئرڈ میولر نے کہا کہ کرہ ارض پر بھوک کے مسئلے کی موجودہ صورت حال تشویش ناک ہے اور اس کا فوری تدارک کیا جانا چاہیے۔

گیئرڈ میولر کے الفاظ میں، ”بھوک بھی قتل ہی کی ایک صورت ہے۔‘‘ انہوں نے زور دے کر کہا کہ آج کی دنیا اتنی ترقی کر چکی ہے اور ٹیکنالوجی کی مدد سے یہ عین ممکن ہے کہ زمین پر تمام انسانوں کے لیے پیٹ بھر کر کھانے کی دستیابی کو یقینی بنایا جا سکے۔
امسالہ انڈکس کے مطابق گزشتہ برس دنیا بھر میں 155 ملین انسانوں کو خوراک کی دستیابی کے حوالے سے انتہائی بے یقینی کی صورت حال کا سامنا رہا اور یہ تعداد 2019ء کے مقابلے میں تقریباﹰ 20 ملین زیادہ تھی۔

سب سے زیادہ متاثرہ خطے

ورلڈ ہَنگر ہیلپ کے اس سالانہ انڈکس کے مطابق دنیا میں پہلے کی طرح آج بھی سب سے زیادہ بھوک افریقہ میں زیریں صحارا کے خطے کے ممالک اور جنوبی ایشیائی ریاستوں میں پائی جاتی ہے۔

دوہزار تیس تک بھوک ختم کرنے کا دعویٰ

ان خطوں میں قدر مشترک یہ ہے کہ وہاں انسانی آبادی بہت زیادہ ہے، اوسط فی کس سالانہ آمدنی کم ہے اور متاثرہ ترقی پذیر ریاستوں کو کئی طرح کے مسائل اور بحرانوں کا سامنا بھی ہے، جن سے بھوک کا مسئلہ اور بھی شدید ہو جاتا ہے۔

بھوک میں اضافے کے اسباب

’وَیلٹ ہُنگر ہِلفے‘ کے سیکرٹری جنرل ماتھیاس مَوگے نے کہا کہ اس وقت دنیا کے جن ممالک میں بھوک کا مسئلہ پوری انسانیت کے لیے المیہ بن چکا ہے، ان میں افریقہ سے صومالیہ اور عرب دنیا سے یمن بھی شامل ہیں۔ صومالیہ برس ہا برس سے بدامنی کا شکار ہے اور یمن میں جاری کئی سالہ جنگ بھی اب تک اس ملک کی مجموعی آبادی کے بہت بڑے حصے کو بھوک کا شکار بنا چکی ہے۔

کورونا وبا کی وجہ سے بھوک میں اضافہ

مَوگے نے کہا کہ جو عوامل دنیا میں گزشتہ برس بھوک کے مسئلے کی شدت میں اضافے کا سبب بنے، ان میں انتہائی گرم موسم، خشک سالی، تباہ کن سیلابوں میں اضافہ اور دیگر ماحولیاتی و موسمیاتی تبدیلیاں تو شامل ہیں ہی، لیکن ساتھ ہی کورونا وائرس کی وجہ سے پھیلنے والی عالمی وبا نے بھی حالات کو مزید تکلیف دہ بنا دیا۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے