روسی صدر نے امریکہ کو فوجی اڈے دینے کی پیشکش کر دی

روسی صدر نے امریکہ کو فوجی اڈے دینے کی پیشکش کر دی ہے ۔روسی صدر ولادیمیر پیوٹن نے امریکی صدر جو بائیڈن کو افغانستان پر نگاہ رکھنے کے لیے تاجکستان اور کرغزستان میں اپنے اڈےدینےکی پیشکش کی ہے۔ پاکستان کے انکار کے بعد روس نے امریکہ کو فوجی اڈے دینے کی پیشکش کر دی ، روس کی جا نب سے امریکا کو اڈے دینے کی پیشکش جینیوا میں ملاقات کے دوران دی گئی ۔

تفصیلات

تفصیلات کے مطابق روسی میڈیا کی جانب سے یہ دعویٰ سامنے آیا ہے کہ روس کے صدر ولادیمیر پیوٹن نے امریکی صدر جو بائیڈن کو افغانستان پر نگاہ رکھنے کے لیے تاجکستان اور کرغزستان میں اپنے اڈے دینے کی پیشکش کی ہے تاہم امریکا کی جانب سے فی الحال روسی پیشکش کا کوئی ٹھوس جواب نہیں دیا گیا۔
یاد رہے کہ گذشتہ ماہ وزیراعظم عمران خان نے غیر ملکی ٹی وی کو دئے گئے انٹرویو میں اس حوالے سے دو ٹوک مؤقف اپناتے ہوئے کہا کہ پاکستان امریکہ کو کسی بھی صورت اپنے ہوائی اڈے استعمال کرنے کی اجازت نہیں دے گا۔

انہوں نے کہا کہ ایسا ممکن ہی نہیں کہ پاکستان سی آئی اے یا امریکہ کی اسپیشل فورسز کو پاکستان کی سرزمین سے افغانستان میں کسی بھی قسم کی کارروائی کی اجازت دے۔

وزیراعظم عمران خان کا کہنا تھا کہ امریکہ کو افغانستان میں فضائی آپریشن کے لیے ائربیس نہیں دے سکتے۔ پاکستان کی سرزمین افغانستان کے خلاف استعمال ہونے نہیں دیں گے۔ ممکن ہی نہیں کہ ہم امریکہ کو افغانستان میں کارروائی کے لیے پاکستان میں اڈے دیں۔ جس کے بعد اپنے ایک بیان میں وزیراعظم عمران خان کے مشیر برائے قومی سلامتی ڈاکٹر معید یوسف نے ایک انٹرویو کے دوران کہا تھا کہ امریکی صدر نے فون کرکے ڈو مور کہنا ہے تو نہ کریں، اگر ہم اڈے دینے کے لیے تیار ہو جائیں تو آج ہی جوبائیڈن کا فون آ جائے گا۔

تاہم رپورٹ کے مطابق مغربی سفارتکاروں نے کہا کہ امریکہ نے پاکستان میں کبھی فوجی اڈے نہیں مانگے۔ مغرب کے ایک سینئر سفارتکار کے مطابق امریکی انتظامیہ میں کوئی بھی ایسا نہیں ہے جس نے فوجی اڈے کی درخواست کی ہو لیکن اس کے باوجود یہ مسئلہ پاکستان میں توجہ کا مرکز بنا ہوا ہے۔انہوں نے کہا کہ پاکستان میں اس مسئلے پر بحث اور ہیش ٹیگ ایبسولیٹلی ناٹ مہم کی وجہ سے واشنگٹن میں سب حیران ہیں۔باوثوق ذرائع کا کہنا ہے کہ امریکہ نے باضابطہ طور پر فوجی اڈوں سے متعلق چلائی جانے والی اس مہم پر اپنے تحفظات سے اسلام آباد کو آگاہ کر دیا ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے