سابق امریکی صدر ٹرمپ کا گوگل، ٹویٹر اور فیس بک پر مقدمے کا اعلان

سابق امریکی صدر ٹرمپ کا گوگل، ٹویٹر اور فیس بک پر مقدمے کا اعلان ۔ ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ ٹیکنالوجی کمپنیاں میری باتوں کو غلط طریقے سے جان بوجھ کر سینسر کرتی ہیں۔

تفصیلات

امریکا کے سابق صدر ٹرمپ نے گوگل، فیس بک اور ٹویٹر کے خلاف مقدمہ لڑنے کا اعلان کر دیا ہے۔غیر ملکی میڈیا کے مطابق سابق صدر کی جانب سے اعلان کیا گیا ہے کہ وہ جلد ان سوشل میڈیا پلیٹ فارمز کیخلاف عدالت میں ایک درخواست کرنے جا رہے ہیں، یہ درخواست امریکن فرسٹ پالیسی انسٹیٹیوٹ کیساتھ مل کر دائر کی جائے گی۔
اس بات کا اعلان انہوں نے نیو جرسی میں میڈیا نمائندوں سے گفتگو کرتے ہوئے کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ میں اس مقدمے میں جیک ڈورسی، سندر پچائی اور مارک زکربرگ کو فریق بنانے جا رہا ہوں۔یہ بات ذہن میں رہے کہ ڈونلڈ ٹرمپ ان ٹیکنالوجی کمپنیوں پر الزام عائد کرتے رہے ہیں کہ وہ ان کی باتوں کو غلط طریقے سے جان بوجھ کر سینسر کرتی ہیں۔

رواں سال چھ جنوری کو ٹویٹر اور فیس بک کو امریکی پارلیمنٹ پر حامیوں کے حملے کے بعد ڈونلڈ ٹرمپ کے پوسٹ اور ٹویٹ کرنے پر پابندی لگا دی تھی۔

یاد رہے کہ سابق امریکی صدر صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ٹویٹر اور فیس بک پر پابندی کے بعد اب اپنا سوشل میڈیا پلیٹ فارم شروع کرنے کا منصوبہ بھی بنایا تھا تاکہ وہ عوام کیساتھ رابطے میں رہ سکیں۔اس بات کی تصدیق ڈونلڈ ٹرمپ کے ترجمان نے خود اپنے ایک حالیہ انٹرویو میں کی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ سابق امریکی صدر جلد اپنے سوشل میڈیا کے ذریعے عوام میں واپسی کرینگے، تاہم ابھی اس میں انھیں چند ماہ کا عرصہ درکار ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ صرف دو یا تین ماہ کے اندر عوام اپنے محبوب صدر کو اپنے درمیان پائیں گے۔ڈونلڈ ٹرمپ کے ترجمان کا کہنا تھا کہ ڈونلڈ ٹرمپ کا سوشل میڈٰیا پلیٹ فارم اس شعبے میں نئی راہیں کھولے گا اور نئے صارفین کو اپنی جانب متوجہ کرنے کی صلاحیت کا حامل ہوگا۔جیسن ملر کا کہنا تھا کہ یہ پلیٹ فارم سوشل میڈیا کے کھیل کو بدل کر رکھ دے گا، اب ہر ایک کو اس کا انتظار ہے۔خیال رہے کہ دنیا کی سب سے مشہور سوشل میڈیا ویب سائٹس ٹویٹر اور فیس بک نے سابق امریکی صدر کے اکاؤنٹس کو بند کر دیا ہے۔ 8 جنوری سے ڈونلڈ ٹرمپ کے اکاؤنٹس بند ہیں اور ان کا اپنی عوام اور دنیا سے رابطہ منقطع ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے