سعودیہ میں روزگار کے خواہشمندغیرملکیوں کیلئے بری خبر

سعودیہ میں روزگار کے خواہشمندغیرملکیوں کیلئے بری خبر ۔سعودیہ میں روزگار کے خواہشمند پاکستانیوں اور دیگر غیرملکیوں کیلئے بری خبر سامنے آ گئی ،سعودی حکومت نے نیا اعلان کر دیا۔

تفصیلات

سعودی عرب میں ملازمت کے مزید دروازے تارکین وطن کے لیے بند کردیے گئے ‘ مملکت کے 6 سرکاری اداروں میں آپریشنل سیکٹر کی سعودائزیشن کا آغاز کردیا گیا۔

سعودی عرب میں روزگار کے خواہشمند پاکستانیوں اور دیگر غیر ملکیوں کیلئے بری خبر ہے کہ مملکت میں ملازمت کے مزید دروازے تارکین وطن کے لیے بند کردیے گئے ، سعودائزیشن کے ذریعے مقامی افراد کو ملازمتیں دی جائیں گی ۔ عرب میڈیا کے مطابق مملکت کے 6 سرکاری اداروں میں آپریشنل سیکٹر کی سعودائزیشن کا آغاز کیا گیا ہے ، جس کے تحت مذکورہ سیکٹر میں غیرملکی کام نہیں کریں گے۔
اسی طرح سرکاری اداروں میں ضرورت کا سامان خریدنے کے لیے ورکنگ ٹیمیں تشکیل دی گئی ہیں ، ورکنگ ٹیموں کو ٹارگٹ دیا گیا ہے کہ وہ ملکی ساختہ سامان کو ترجیح دیں ، مقامی صنعتوں کو فروغ دینے کے لیے اقدامات کریں ، اس سلسلے میں سعودی وزیر صنعت و معدنیات بندر الخریف نے کہا ہے کہ مقامی اشیاء کے استعمال پر توجہ مرکوز کرنے سے تمام اقتصادی طبقوں کا فائدہ ہوگا۔

نیا سعودی وژن

خیال رہے کہ سعودی عرب نے غیر ملکیوں پر انحصار کم کرنے کا منصوبہ شروع کرتے ہوئے ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان نے فروغ افرادی قوت پروگرام کا آغاز کر دیا ، پروگرام 89 سکیموں پر مشتمل ہے ، جس کے ذریعے سعودی وژن 2030ء کے 16 سٹراٹیجک اہداف پورے ہوں گے ، اس حوالے سے سعودی ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان نے کہا ہے کہ فروغ افرادی قوت پروگرام سعودی وژن 2030 میں شامل ہے ۔

اس کے تحت افرادی قوت کے فروغ کا سفر بچپن سے شروع ہوگا ، جو کالجوں، ٹیکنالوجی اور پیشہ ورانہ انسٹی ٹیوٹس اور یونیورسٹیوں سے ہوتے ہوئے لیبر مارکیٹ تک پہنچے گا ، اس کا مقصد سعودی شہریوں میں مہارتیں پیدا کرنا اور ان کی علمی قابلیت کو بڑھانا ہے ، لیبر مارکیٹ کے نت نئے تقاضوں کو پورا کرنا بھی اس کا ایک اہم مقصد ہے۔

اہم مقاصد

انہوں نے کہا کہ نیا پروگرام معاشرے کے تمام طبقوں کی ضروریات اور آرزوؤں کو پورا کرنے کے لیے ترتیب دیا گیا ہے ، ہر شہری کی استعداد پر مجھے پورا بھروسہ ہے ، یہ پروگرام ملکی اور بین الاقوامی سطح پر قومی افرادی قوت میں مسابقت کا جذبہ مضبوط کرے گا ۔

یہ مضبوط معیشت کی تشکیل میں اہم کردار ادا کرے گا اور ہمارے عوام موجودہ اور بین الاقوامی لیبر مارکیٹ کے چیلنجوں کا مقابلہ کریں گے ، جس کے لیے کمسنی سے بچوں کی استعداد بڑھانے کے لیے نرسری سکول بڑے پیمانے پر قائم ہوں گے ، بچوں کی نجی مہارتوں کو فروغ دیا جائے گا۔

طلبہ کو لیبر مارکیٹ سے منسلک کرنے کے لیے پیشہ ورانہ رہنمائی فراہم کی جائے گی اور پیشہ ورنہ رجحانات متعین کرنے میں مدد کی جائے گی۔
سعودی ولی عہد نے کہا کہ 2030 تک سعودی عرب کی دو یونیورسٹیوں کو دنیا کی سو بہترین جامعات کی فہرست میں شامل کرایا جائے گا ، 23 فیصد سے 90 فیصد تک بچوں کو نرسری سکولوں سے منسلک ہونے کے مواقع مہیا ہوں گے ، فروغ افرادی قوت پروگرام مملکت میں افرادی قوت کی تیاری پر توجہ مرکوز کرے گا ، پرائیویٹ سیکٹر اور بغیر منافع والے سیکٹر کے ساتھ وسیع البنیاد شراکت کا اہتمام کرے گا ، اس حوالے سے متعدد اہداف حاصل کیے جائیں گے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے