سعودی حکومت نےاقامہ ہولڈرزکوسعودیہ واپسی کی اجازت دے دی

سعودی حکومت نےاقامہ ہولڈرزکوسعودیہ واپسی کی اجازت دے دی ۔سعودی حکومت نے اقامہ ہولڈرز کو براہ راست واپسی کی اجازت دے دی ہے۔

تفصیلات

سفری پابندیوں والے 10 ممالک سے تعلق رکھنے والے اسکول، کالجز، جامعات اور ٹیکنیکل تعلیمی اداروں سے وابستہ تمام غیر ملکی ٹیچرز اور دیگر عملے کو اب سعودی عرب واپسی کی اجازت ہو گی، ویکسین لگوائے بنا مملکت آنے والوں کو قرنطینہ اور ویکسین لگوانے کی شرط پوری کرنا ہو گی۔

سعودی حکومت نےاقامہ ہولڈرزکوسعودیہ واپسی کی اجازت دے دی ہے ۔سعودی حکومت نے شعبہ تعلیم سے وابستہ غیر ملکی اقامہ ہولڈرز کو براہ راست واپسی کی اجازت دے دی۔ تفصیلات کے مطابق سعودی عرب نے پاکستان اور بھارت سمیت 10 ممالک پر عائد کی گئی سفری پابندیوں میں نرمی کے حوالے سے بڑا فیصلہ کیا ہے۔ سعودی حکومت نے سفری پابندی کی فہرست میں شامل ممالک میں پھنسے مخصوص سعودی اقامہ ہولڈرز کو براہ راست مملکت واپسی کی اجازت دے دی ہے۔


سعودی گیزٹ کی رپورٹ کے مطابق ابتدائی طور پر سعودی حکومت نے صرف شعبہ تعلیم سے وابستہ غیر ملکی ملازمین کو مملکت واپسی کی اجازت دی ہے۔ اسکول، کالجز، جامعات اور ٹیکنیکل تعلیمی اداروں سے وابستہ وہ تمام غیر ملکی ٹیچرز اور دیگر ملازمین جن کا تعلق سفری پابندیوں والی فہرست میں شامل 10 ممالک سے ہے، انہیں اب سعودی عرب کی براہ راست پروازوں کے ذریعے واپسی کی اجازت ہے۔

یہاں یہ وضاحت بھی کی گئی ہے کہ شعبہ تعلیم سے وابستہ ایسے غیر ملکی اقامہ ہولڈرز جنہوں نے تاحال کرونا کی ویکسین نہیں لگوائی، انہیں سعودی عرب واپسی کی اجازت تو ہوگی، تاہم مملکت پہنچنے کے بعد انہیں ناصرف 14 روز کا قرنطینہ اختیار کرنا ہو گا، جبکہ اسی دوران انہیں سعودی حکومت کی منظورہ شدہ کوئی بھی کرونا ویکسین بھی لگوانا ہو گی۔ یہاں واضح رہے کہ سعودی حکومت نے کرونا کی ڈیلٹا قسم کے پھیلاو کی وجہ سے کئی ماہ قبل پاکستان، بھارت، ترکی، انڈونیشیا، مصر، برازیل، ایتھوپیا، ویتنام، افغانستان اور لبنان سے مسافروں کی براہ راست سعودی عرب آمد پر پابندی عائد کر دی تھی۔
اس پابندی کے باعث پاکستان چھٹی پر آئے ہزاروں محنت کش پاکستانی سعودی اقامہ ہولڈرز اپنا روزگار چھن جانے کے خدشات سے دوچار ہیں۔ یہ بھی یاد رہے کہ گزشتہ دنوں سعودی حکومت نے سفری پابندیوں میں کچھ نرمی کرتے ہوئے صرف ان غیر ملکیوں کو مملکت واپس آنے کی اجازت دی جو سعودی عرب میں کرونا ویکسی نیشن کروانے کے بعد بیرون ملک گئے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے