سعودی عرب نے چینی ساختہ ویکسین کی منظوری نہیں دی

سعودی عرب نے چینی ساختہ ویکسین کی منظوری نہیں دی ۔ سعودی وزارتِ صحت کا بیان جاری ۔جن ممالک کے شہریوں نے چینی ساختہ ویکسین لگوا رکھی ہیں انہیں ریاض کی منظور کردہ برطانوی ویکسین آسٹرزینیکا اور امریکی برانڈزفائزر‘جانسن اینڈ جانسن اور موڈرنا کی خوراک لازم لگوانا پڑے گی. سعودی حکام کی جانب سے وضاحت سامنے آ گئی۔

تفصیلات

سعودی عرب نے چینی ساختہ کورونا ویکسین سائنوویک اور سائنوفارم کی منظوری نہیں دی بلکہ کہا ہے کہ جن ممالک کے شہریوں نے چینی ساختہ ویکسین لگوا رکھی ہیں انہیں ریاض کی منظور کردہ برطانوی ویکسین آسٹرزینیکا اور امریکی برانڈزفائزر‘جانسن اینڈ جانسن اور موڈرنا کی خوراک لازم لگوانا پڑے گی.
عالمی ادارہ صحت نے امریکا کی جانب سے دو مختلف برانڈ کی ویکسین کو ملا کر لگانے کے فیصلے کو خطرناک قراردیتے ہوئے بند کرنے کا مشورہ دیا تھا امریکا میں برطانیہ کی آسٹرزینیکا اور فائزرملاکر لگانے کو بھارتی قسم ڈیلٹا سمیت دیگر اقسام کے خلاف موثر قراردیا تھا.

فیصلے کی وجوہات

امریکا میں ان تجربات پر عالمی اداروہ صحت کا کہنا ہے کہ ان سے انسانی جانوں کو خطرات لاحق ہوسکتے ہیں اور اس کے فوائدسے زیادہ نقصا ن پہنچنے کا خدشہ ہے سعودی عرب کے فیصلے سے پاکستان سمیت 20 ممالک کے ان شہریوں پر عائد سفری پابندیاں نرم ہوجائیں گی جو ریاض کی منظور کردہ برطانوی ویکسین آسٹرزینیکا اور امریکی برانڈزفائزر‘جانسن اینڈ جانسن اور موڈرنا کے بوسٹر لگوانا ہونگے.

عرب نشریاتی ادارے کے مطابق سعودی وزارت صحت نے کہا ہے کہ ایسے افراد جنہوں نے SinoVac یا SinoPharm ویکسین کی مکمل خوراکیں لگوائی ہوں ان کے ویکسین سرٹیفیکیٹ کو مملکت میں قبول کیا جا سکتا ہے جنہوں نے مملکت کی منظور شدہ ویکسین کا بوسٹر ٹیکہ بھی لگوا لیا ہو وزارت نے اس سے قبل کہا تھا کہ دو مختلف ویکسینز کی دو خوراکیں لی جاسکتی ہیں تاہم ڈبلیو ایچ او کی رائے اس کے خلاف ہے.

وزارت نے کہا کہ موجودہ سفارشات کے مطابق دوسری خوراک پہلی خوراک کے کم از کم تین ہفتوں بعد لی جا سکتی ہے جب کہ کووڈ 19 سے صحت یاب ہونے والے افراد کو ویکسین کی دو خوراکیں ملنی چاہئیں، پہلی انفیکشن کے کم از کم 10 دن بعد دوسری کم از کم تین ہفتوں کے بعد اگر پہلی خوراک لینے کے بعد انفیکشن ہوا تو دوسری خوراک انفیکشن کے کم از کم 10 دن بعد دی جا سکتی ہے.
سعودی وزارت خارجہ نے مزید کہا کہ مملکت میں واپس آنے کے خواہشمند افراد کو تمام مراحل سے گزرنا ہو گا تاکہ یہ یقینی بنایا جا سکے کہ وہ انفیکشن سے پاک ہیں جن ممالک سے غیر ملکیوں کے لیے سعودی عرب میں براہ راست داخلے پر پابندی عائد کی گئی تھی ان میں پاکستان، بھارت، متحدہ عرب امارات، مصر، لبنان، ترکی، امریکہ، برطانیہ، جرمنی، فرانس، اٹلی، آئرلینڈ، پرتگال سوئٹزرلینڈ، سویڈن، برازیل، ارجنٹائن، جنوبی افریقہ، انڈونیشیا اور جاپان شامل تھے.

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے