طالبان کا افغانستان پر قبضہ ‘عالمی برادری کی ناکامی

طالبان کا افغانستان پر قبضہ ‘عالمی برادری کی ناکامی قرار ۔افغانستان سے امریکی انخلا پر عالمی رہنماؤں نے کہاہے کہ طالبان کا افغانستان پر قبضہ ‘عالمی برادری کی ناکامی’ ہے،مسئلہ ادھورا رہ گیا۔

عالمی رہنماوں کا موقف

پرامن انتقال اقتدار یقینی بنائیں اور ایک واضح اور اسلامی حکومت’ کی تشکیل کے وعدے کی پاسداری کریں، افغانستان اور غیرملکی شہریوں کی سلامتی یقینی بنائیں، چین ، قطر ، آسٹریلیا ، جرمن چانسلر اور یورپی کمیشن کے عہدے داروں کا بیان ۔

ایران سے جاری ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ "افغانستان میں فوجی شکست اور امریکی انخلا ملک میں شہریوں کی زندگی، سلامتی اور پائیداری کیلئے ایک موقع کا باعث ہونا چاہیے”۔

برطانیہ کے سیکریٹری دفاع بین ویلیس نے کہا کہ طالبان کا افغانستان پر قبضہ ‘عالمی برادری کی ناکامی’ ہے اور مغربی مداخلت سے صرف ادھورا کام ہوا۔

انہوں نے کہا کہ ہم سب جانتے ہیں کہ افغانستان کا مسئلہ ختم نہیں ہوا، یہ دنیا کے لیے ایک نامکمل مسئلہ ہے اور دنیا کو اس حوالے سے مدد کرنے کی ضرورت ہے۔انہوں نے کہا کہ افغانستان میں 20 برس تک امریکا کی سربراہی میں بیرونی فورسز کی مداخلت بے سود نہیں تھی بلکہ یہ کسی چیز کیلئے نہیں تھی لیکن مغربی طاقتیں پالیسی کے معاملات میں دور رس نظر نہیں رکھتیں۔

انہوں نے کہاکہ اگر یہ ناکامی ہے تو یہ عالمی برادری کی ناکامی ہے کہ آپ یہ سمجھ ہی نہیں پائے کہ ایک دن میں مسائل ختم نہیں ہوتے۔انہوں نے کہا کہ مجھے خوف آتا ہے جب آپ افغانستان جیسے ملک سے معاملات طے کرتے ہیں، جس کی ہزار سالہ مؤثر اور خانہ جنگی کی تاریخ ہے، آپ اس کے مسائل کا انتظام کریں اور ہوسکتا ہے کہ آپ کو 100 سال کے لیے اس کا انتظام کرنا پڑے۔

ایران کا پیغام


ایران کے نئے صدر ابراہیم رئیسی نے اپنے ردعمل میں کہا کہ افغانستان میں امریکی شکست سے پڑوسی ملک میں پائیدار امن کا موقع پیدا ہوا ہے جو جنگ سے متاثرہ ملک ہے۔ایران کے صدر دفتر سے جاری بیان کے مطابق ابراہیم رئیسی نے کہا کہ افغانستان میں فوجی شکست اور امریکی انخلا ملک میں شہریوں کی زندگی، سلامتی اور پائیداری کے لیے ایک موقعے کا باعث ہونا چاہیے۔
ایران کے نئے صدر کا بیان افغانستان میں طالبان کے قبضے کے بعد سامنے آیا ہے تاہم اس میں نہ تو طالبان کی جانب اشارہ کیا گیا ہے اور نہ ہی افغان حکومت کی ناکامی کا بتایا گیا ہے۔

چینی وزارت خارجہ کا بیان

چین کی وزارت خارجہ کی ترجمان ہووا چونینگ نے کہا کہ افغانستان کے ساتھ ‘دوستانہ اور تعاون’ کے تعلقات مضبوط کرنے کے لیے تیار ہیں۔انہوں نے کہا کہ ہم افغانستان کے ساتھ تعلقات مضبوط کرنے کے موقع کا ‘خیر مقدم’ کرتے ہیں، ایک ایسا ملک جو نسلوں سے بڑے سپر پاورز کے لیے جیو اسٹریٹجک اہمیت کا حامل رہا ہے۔
انہوں نے کہاکہ طالبان مسلسل اپنی امیدوں کا اظہار کرتے رہے ہیں کہ چین کے ساتھ اچھے تعلقات قائم ہوں اور وہ افغانستان میں بحالی اور ترقی میں چین کی شراکت داری کے خواہاں ہیں۔چین کی وزارت خارجہ کی ترجمان نے کہا کہ ہم اس کا خیر مقدم کرتے ہیں، چین افغانستان کے شہریوں کے حق کا احترام کرتا ہے کہ وہ اپنی منزل کا آزادانہ طور پر تعین کریں اور ہم چاہتے ہیں کہ افغانستان کے ساتھ دوستانہ اور تعاون کے تعلقات بدستور پنپتے رہیں۔
انہوں نے طالبان سے مطالبہ کیا کہ پرامن انتقال اقتدار یقینی بنائیں اور ایک واضح اور اسلامی حکومت’ کی تشکیل کے وعدے کی پاسداری کریں، افغانستان اور غیرملکی شہریوں کی سلامتی یقینی بنائیں۔

نیوزی لینڈ کا موقف

نیوزی لینڈ کی وزیراعظم جسینڈا آرڈن نے طالبان قیادت سے مطالبہ کیا کہ افغانستان میں انسانی حقوق بحال رکھیں اور خواتین کو کام کرنے اور تعلیم حاصل کرنے کی اجازت دیں۔
انہوں نے کہا کہ جو غیر ملکی اور افغانستان کے شہری باہر جانا چاہتے ہیں انہیں اجازت ہونی چاہیے۔جسینڈا آرڈن نے نیوز کانفرنس میں کہا کہ عالمی برادری نے حال ہی میں انسانی حقوق اور شہریوں کے تحفظ کے حوالے سے مطالبہ کیا تھا۔

روس

افغانستان کے لیے روس کے خصوصی نمائندے ضمیر کابولوف نے کہا کہ ہم کابل سے اپنے متعدد سفارت کاروں کو واپس بھیج دیں گے تاکہ یہاں پر تعداد اتنی زیادہ نہ ہو۔
ضمیر کابولوف نے ریڈیو اسٹیشن ایخو موکسوی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ایک اندازے کے مطابق 100 روسی سفارت کاروں کو بھیج دیا جائے گا، جس کی وجہ تعداد کم کرنا ہے۔روسی نمائندے نے کہا کہ افغانستان کے دارالحکومت کابل میں طالبان کا اس قدر جلدی قبضہ ایک طرح سے ‘غیر متوقع’ تھا۔انہوںنے کہاکہ روس کو امریکا اور نیٹو کے تربیت یافتہ فوجیوں کے معیار سے متعلق اچھے نتائج کی توقع تھی۔
انہوں نے کہا کہ افغانستان میں تعینات روس کے سفیر دیمتری زیرنوف منگل کو طالبان کے نمائندے سے ملاقات کریں گے تاکہ سفارتی مشن کی سیکیورٹی پر تبادلہ خیال کیا جائے جبکہ سفارتی حدود سے باہر طالبان نے پنجے گاڑھ دیے ہیں۔جرمن چانسلر انجیلا مرکل نے افغانستان سے شہریوں کی بحفاظت واپسی کے لیے آپریشن پر زور دیا۔انہوں نے پارٹی رہنماؤں سے ملاقات کے بعد کہا کہ ہم مشکل وقت دیکھ رہے ہیں اور اب ہمیں لوگوں کو وہاں سے نکالنے پر توجہ دینی ہوگی۔

دیگر ممالک کے خدشات


قطر کے وزیر خارجہ محمد بن عبدالرحمن الثانی نے ایک بیان میں کہا کہ تیزی سے بدلتے ہوئے حالات پر دنیا کو تشویش ہے اور قطر پرامن انتقال اقتدار کے لیے خاص کر خلا پیدا ہونے کے بعد ممکنہ کوششیں کر رہا ہے۔آسٹریلیا کے وزیراعظم اسکاٹ موریسن نے کہا کہ ہم اپنے 130 سے زائد شہریوں اور طالبان کے کنٹرول کے بعد انسانی بنیادوں پر افغانستان سے باہر جانے کے لیے ویزا کے امیدواروں کی واپسی کے لیے کام کر رہے ہیں۔
موریسن نے کہا کہ اتحادی کی حیثیت سے افغانستان کی تعمیر میں برسوں تک مدد کی اور اب جانی نقصان کے خدشات پر تشویش ہے۔انہوں نے طالبان سے تشدد روکنے کا مطالبہ کیا اور کہا کہ شہریوں سے متعلق جرائم نہ ہوں، افغان حکومت عہدیداروں اور منتخب رہنماؤں کی عزت کا خیال رکھیں اور لوگوں کو بلا رکاؤٹ ملک سے جانے کی اجازت دے دیں۔یورپی کمیشن کے نائب صدر مارگریٹیس شیناس کا کہنا تھا کہ وقت نکل چکا ہے اور ہم یورپ کے مائیگریشن اور سیاسی پناہ کے قواعد کی مکمل نظرثانی کرنے کا انتظار نہیں کرسکتے ہیں۔رپورٹ کے مطابق امریکی حکومت، آسٹریلیا، کینیڈا، فرانس، جرمنی، اٹلی، جاپان، کوریا، قطر اور برطانیہ سمیت مختلف ممالک نے مشترکہ بیان میں کہا کہ افغانستان میں جن کے پاس اختیار ہے ان کی یہ ذمہ داری ہے کہ انسانی جانوں اور املاک کا تحفظ کیا جائے اور فوری طور پر سیکیورٹی اور امن و عامہ بحال کیا جائے۔انہوں نے کہا کہ افغانستان کے شہریوں کو تحفظ، سیکیورٹی اور عزت کا حق حاصل ہے اور ہم بحیثیت عالمی برادری ان کی مدد کے لیے تیار ہیں۔

امریکی موقف

امریکی صدر نے اپنے بیان میں کہا کہ ایک سال یا پانچ سال تک امریکی فوج کی موجودگی سے کوئی تبدیلی نہیں آتی اگر افغان فوج اپنے ملک کا دفاع نہیں کرسکتی یا نہیں کرے گی۔انہوں نے کہا کہ میرے لیے ایک ملک میں خانہ جنگی کے درمیان امریکیوں کی لا محدود موجودگی قبول نہیں ہے۔اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل انتونیو گوتریس نے تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ افغانستان کے تنازع سے ہزاروں افراد ہجرت پر مجبور ہوں گے اور انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیوں کی رپورٹس ہیں۔
کینیڈا کے وزیراعظم جسٹن ٹروڈو نے صحافیوں سے بات کرتے ہوئے کہا کہ کینیڈا بدلتے ہوئے حالات کا جائزہ لے رہا ہے اور افغانستان میں ہونے والی پیش رفت پر نظر رکھے ہوئے ہیں۔انہوں نے کہا کہ ہمیں آج افغانستان کے شہریوں کو درپیش صورت حال سے دلبرداشتہ ہیں۔انہوںنے کہاکہ افغانستان کے شہریوں کو کینیڈا کے نئے خصوصی امیگریشن پروگرام کے تحت تحفظ دینے کے لیے جاری کام ہماری اولین ترجیح ہے اور ہم اپنے اتحادیوں کے ساتھ مل کر کام کریں گے۔
امریکا کے اسٹیٹ ڈپارٹمنٹ کے بیان میں کہا گیا کہ 60 سے زائد ممالک نے مشترکہ بیان میں کہا کہ افغانستان کے شہری اور غیرملکی کو جو باہر جانا چاہتے ہیں انہیں اجازت ہونی چاہیے، ایئرپورٹس اور سرحدیں بدستور کھلی رہیں۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے