لائن جج کو نادانستہ گیند مارنے پر جوکووچ یو ایس اوپن سے باہر۔

لائن جج کو نادانستہ گیند مارنے پر جوکووچ یو ایس اوپن سے باہر۔ ٹاپ سیڈ ٹینس کھلاڑی نوواک جوکووچ نے امریکہ کے شہر نیویارک میں ہونے والے یو ایس اوپن ٹینس ٹورنامنٹ کے ایک میچ کے دوران غلطی سے لائن جج کو گیند مارنے پر معذرت کرتے ہوئے کہا ہے کہ انھیں ’خاتون جج کو تکلیف میں مبتلا کرنے پر انتہائی افسوس ہے۔‘یاد رہے کہ لائن جج کو گیند مارنے پر نوواک جوکووچ کو میچ سے ڈس کوالیفائی کر دیا گیا تھا جس کے بعد وہ ٹونامنٹ سے باہر ہو گئے تھے

سپین کے کھلاڑی پابلو کیرینو بسٹا کے ساتھ میچ کے دوران سرو پوائنٹ ہارنے کے بعد جوکووچ چھ کے مقابلے پانچ پوائنٹ کے خسارے میں تھے اور مایوسی کا اظہار کرتے ہوئے انھوں نے یہ عمل کیا۔سربیا سے تعلق رکھنے والے نوواک جوکووچ نے اپنی جیب سے گیند نکالی اور اسے ریکٹ کی مدد سے پیچھے کی جانب مار دیا۔ ان کے عقب میں موجود ایک خاتون لائن جج کو یہ گیند گردن پر جا کر لگی۔

طویل بحث کے بعد ٹورنامنٹ کے منتظمین نے فیصلہ کیا کہ انھیں اس میچ میں بلامقابلہ شکست کا سامنا کرنا پڑے گا جس کے باعث وہ ٹورنامنٹ کا مزید حصہ نہیں رہ پائیں گے۔

اس واقعے سے متعلق اپنے انسٹاگرام اکاؤنٹ پر جوکووچ کا کہنا تھا کہ ’اس صورتحال پر وہ شدید افسردہ ہیں اور خالی پن محسوس کر رہے ہیں۔‘

ان کا مزید کہنا تھا کہ انھوں نے ٹورنامنٹ انتظامیہ سے رابطہ کیا ہے جنھوں نے انھیں آگاہ کیا کہ لائن جج اب خیریت سے ہیں۔

’مجھے انھیں (لائن جج) تکلیف میں مبتلا کر دینے پر انتہائی افسوس ہے۔ یہ مکمل طور پر غیر ارادی تھا۔ یہ بہت غلط تھا۔ احترام اور رازداری کے تقاضوں کو پورا کرتے ہوئے میں یہاں ان کا نام ظاہر نہیں کر رہا ہوں۔‘

انھوں نے کہا کہ کہ اب انھیں واپس جانا چاہیے اور اپنے مایوس رویے پر توجہ دینی چاہیے اور اس پورے معاملے کو ایک کھلاڑی اور ایک انسان کی حیثیت سے اپنی نشونما اور ارتقا کے لیے بطور سبق دیکھنا چاہیے گا۔

گرینڈ سلیم کے قوانین کے مطابق: ’کوئی بھی کھلاڑی کسی بھی موقع پر کسی منتظم، حریف، تماشائی یا ٹورنامنٹ کے دائرہ کار میں موجود کسی بھی فرد کو جسمانی تکلیف نہیں پہنچائے گا۔‘

ایسی صورت میں ریفری کے پاس یہ اختیار ہو گا کہ وہ گرینڈ سلیم چیف آف سپروائزرز سے مشورہ کر کے کھلاڑی کو میچ میں بلامقابلہ شکست دے چاہے یہ اس قانون کی پہلی مرتبہ ہی خلاف ورزی کیوں نہ ہو۔’کورونا وائرس کی عالمی وبا کی شروعات کے بعد سے یہ ٹینس کا پہلا گرینڈ سلیم ٹورنامنٹ ہے اور یہ تماشائیوں کے بغیر منعقد کیا گیا ہے۔ جوکووچ اس ٹورنامنٹ کو جیتنے کے لیے فیورٹ تھے۔ٹینس کی مردوں کی عالمی درجہ بندی میں 20ویں نمبر پر آنے والے کیرینو بسٹا سے مقابلے سے قبل جوکووچ نے سنہ 2020 میں کوئی بھی میچ نہیں ہارا تھا۔ وہ 26 میچوں سے ناقابلِ شکست تھے اور انھوں نے اس سال کے آغاز میں ہونے والا آسلٹریلیئن اوپن بھی جیت رکھا تھا۔

33 سالہ جوکووچ اگر یہ ٹورنامنٹ جیت جاتے تو یہ ان کی 18ویں گرینڈ سلیم ٹائٹل فتح ہوتی اور وہ رافیل نڈال اور راجر فیڈرر کی ٹائٹل فتوحات کے مزید قریب آ جاتے۔

اس واقعے کے بعد جوکووچ نے اپنی صفائی پیش کرتے ہوئے کورٹ میں موجود ٹورنامنٹ ریفری سویرین فریمیل اور گرینڈ سلیم سپروائزر آندریاس ایگلی کے ساتھ خاصی لمبی بحث کی۔

تاہم آخر کار انھیں یہ فیصلہ قبول کرتے ہوئے مخالف کھلاڑی کیرینو بسٹا سے ہاتھ ملا کر اپنی شکست تسلیم کرنی پڑی۔ کیرینو اس ساری صورتحال میں اپنی کرسی پر بیٹھے انتظار کرتے رہے اور خاصے حیرت زدہ دکھائی دیے۔

جوکووچ پریس کانفرنس کیے بغیر ہی فلشنگ میڈوز سے واپس چلے گئے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے