مواخذے کے خوف نے ٹرمپ کو شکست تسلیم کرنے پر مجبور کردیا

مواخذے کے خوف نے ٹرمپ کو شکست تسلیم کرنے پر مجبور کردیا ۔ امریکی کانگریس کی عمارت پر اپنے حامیوں کے بلوے سے پیدا ہونے والی قانونی پیچیدگیوں اور مقتدر حلقوں کی جانب سے مواخذے کے مطالبے پر خوف زدہ ہو کر صدر ٹرمپ نے بالآخر باضابط طور پر اپنی شکست تسلیم کرلی ہے۔

سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹویٹر پر اپنے ویڈیو پیغام میں صدر ٹرمپ نے قومی مفاہمت کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ نومنتخب حکومت 20 جنوری کو حلف اٹھائے گی جس کے لیے میری ساری توجہ کسی بھی رکاوٹ کے بغیر اقتدار کی منتقلی پر ہو گی۔

اپنے ویڈیو بیان میں صدر ٹرمپ نے یہ بھی وضاحت کی کہ کانگریس کی عمارت ’کیپٹل ہل‘ پر حملے کی اطلاع پر فوری طور پر نیشنل گارڈز اور قانون نافذ کرنے والے وفاقی اداروں کو عمارت اور ارکان کی حفاظت اور مظاہرین کو نکالنے کے لیے روانہ کیا۔

علاوہ ازیں صدر ٹرمپ کے سوشل میڈیا ڈائریکٹر نے اپنے ٹوئٹر پر ایک بیان میں امریکی صدر کا یہ بیان لکھا کہ ’’اگرچہ میں صدارتی انتخاب کے نتائج سے متفق نہیں اور مجھے سارے حقائق کا عمل بھی ہے تاہم اس کے باوجود 20 جنوری کو منظم منتقلی ہوگی۔

ڈونلڈ ٹرمپ نے مزید کہا کہ یہ صدارتی تاریخ کی سب سے بڑی مدت کے خاتمے کی نمائندگی کرتا ہے لیکن امریکا کو دوبارہ عظیم بنانے کی ہماری جدوجہد کا یہ صرف آغاز ہے۔

واضح رہے کہ گزشتہ روز کانگریس کی عمارت پر صدر ٹرمپ کے حامیوں کے حملے میں 4 افراد ہلاک ہوگئے تھے جس کے بعد سے مقتدر حلقوں کی جانب سے انتقال اقتدار میں رکاوٹ ڈالنے کی کوشش پر صدر ٹرمپ کے مواخذے کا مطالبہ کیا گیا تھا۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے