پاکستانیوں کیلئے جرمنی میں اعلیٰ تعلیم کے مواقع موجود ، جرمن سفارتکار

پاکستانیوں کیلئے جرمنی میں اعلیٰ تعلیم کے مواقع موجود ، جرمن سفارتکار کازرعی یونیورسٹی میں بیان۔ کریسٹین روزنبر جرنے کہا کہ وہ زرعی یونیورسٹی میں جرمن جامعات کے تین درجن کے لگ بھگ سابق پی ایچ ڈی طلبہ کو دیکھ کر بے حد متاثر ہوئی ہیں۔

جرمن جامعات میں پاکستانی نوجوانو ں کیلئے اعلیٰ تعلیم کے زیادہ سے زیادہ مواقع دونوں ممالک کے تعلقات میں گرمجوشی کا باعث بن رہے ہیں جنہیں مزید بلندیوں سے ہمکنار کرنے کیلئے جرمن جامعات کے سابق پاکستانی طلبہ اہم کردار ادا کر سکتے ہیں۔ یہ باتیں پاکستان میں جرمن سفارتخانے کی پریس و کلچرل سیکشن کی سربراہ مسز کریسٹین روزنبرجرنے زرعی یونیورسٹی فیصل آباد کے وائس چانسلرپروفیسرڈاکٹر انس سرور قریشی سے ملاقات‘ نیو سینٹ ہال میں جرمن جامعات کے سابق طلبہ سے گفتگو اور بعد ازاں انسٹی ٹیوٹ آف سوائل و انوائرمنٹل سائنسز میں ہمبلڈفاؤنڈیشن جرمنی کی طرف سے 20ہزار یوروکے سائنسی آلات کی حوالگی تقریب کے دوران گفتگو کرتے ہوئے کہیں۔

واپس آنیوالے نوجوان اپنے جرمن اساتذہ اور ساتھی طلبہ کے ساتھ بہترروابط کے ساتھ دونوں ممالک کے باہمی تعلقات کو ایک مضبوط نیٹ ورک کی بنیاد فراہم کر سکتے ہیں لہٰذا وہ چاہیں گی کہ جرمن جامعات کے پاکستان میں موجود سابق طلبہ مزید پاکستانیوں کو جرمن جامعات میں داخلوں کیلئے رہنمائی فراہم کریں۔
انہوں نے بتایا کہ انہیں پاکستان کی مختلف جامعات میں جانے کا موقع ملا ہے تاہم وہ زرعی یونیورسٹی میں جرمن جامعات کے تین درجن کے لگ بھگ سابق پی ایچ ڈی طلبہ کو دیکھ کر بے حد متاثر ہوئی ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ جرمنی زبردست کلچراور تحقیقاتی تجربے کی وجہ سے یورپ میں اہم مقام رکھتا ہے جس سے جانکاری کیلئے پاکستانی نوجوانوں کو جرمن جامعات کا رخ کرنا چاہئے۔
اس موقع پر یونیورسٹی کے وائس چانسلرپروفیسرڈاکٹر انس سرور قریشی نے زرعی یونیورسٹی اور جرمن جامعات کے تعلقات کو فعال اور متحرک قرار دیتے ہوئے کہاکہ جرمنی بین الاقوامی سطح پر متعدد پروگرامز کے پلیٹ فارم سے پاکستانی جامعات اور ماہرین کے ساتھ قریبی رابطے میں ہے یہی وجہ ہے کہ ماضی قریب میں پاکستانی طلبہ کی جرمن جامعات میں موجودگی کیساتھ ساتھ متعدد جرمن طلبہ بھی زرعی یونیورسٹی میں زیرتعلیم رہے۔
انہوں نے کہا کہ پاکستانی طلبہ کیلئے جرمن جامعات میں پی ایچ ڈی سکالرشپ مکمل دورانئے کیلئے فراہم نہیں کیا جاتاجس کی وجہ سے پاکستانی نوجوانوں کو اپنی ڈگری مکمل کرنے کیلئے مزید سکالرشپس تلاش کرنا پڑتے ہیں لہٰذا وہ چاہیں گے کہ جرمن حکومت پی ایچ ڈی کے پورے دورانیہ کیلئے سکالرشپس کی فراہمی پر غور کرے۔ انہوں نے کہاکہ یورپی معاشیات میں جرمنی ایک اہم او رکلیدی کردار ادا کر رہا ہے اور دونوں ممالک ماضی قریب میں ہاکی کے میدان کے بڑے حریف رہے ہیں لیکن اب حالات ایسے نہیں رہے کہ پاکستانی نوجوانوں کو جرمن گراؤنڈز جیسی سہولیات اس فراوانی کیساتھ میسر نہیں۔
انسٹی ٹیوٹ آف سوائل و نوائرمنٹل سائنسز میں ایف ٹی آئی آر سپیکٹومیٹر لیبارٹری کی انچارج و پرنسپل انویسٹی گیٹر ڈاکٹر ارشاد بی بی‘معاون انویسٹی گیٹر ڈاکٹر نبیل نیازی اور ڈین کلیہ زراعت پروفیسرڈاکٹر جاوید اختر نے جرمن مہمان کو یونیورسٹی میں موجود جرمن جامعات کے سابق طلبہ کا تفصیل سے تعارف پیش کرتے ہوئے بتایاکہ جرمن جامعات کے سابق طلبہ اپنے شعبہ جات میں ایک موثر نیٹ ورک قائم کئے ہوئے ہیں اور نوجوانوں کو جرمن جامعات میں داخلوں کیلئے رہنمائی فراہم کر رہے ہیں۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے