پاکستانیوں کی پروازیں منسوخ کرنے پر حکو مت کا ایکشن،ایئرلائنز کو وارننگ

پاکستانیوں کی پروازیں منسوخ کرنے پر حکو مت کا ایکشن،ایئرلائنز کو وارننگ جاری کی گئی ہے۔ حکومت نے غیر ملکی ایئرلائنز کی طرف سے اچانک پاکستانیوں کے لیے پروازیں منسوخ کرنے پر نوٹس لے لیا۔ اوورسیز پاکستانیوں کی شکایت پر سول ایوی ایشن اتھارٹی نے پانچ ایئر لائنز کو نوٹس جاری کر دیے ہیں۔ جس میں ایک ہفتے کی مہلت دی گئی ہے اور کہا گیا ہے کہ روش جاری رکھنے پر کاروائی کی جائے گی۔

ایسے وقت میں جب عیدالاضحی قریب ہے اور یورپ میں موسم گرماکی چھٹیاں ہو رہی ہیں۔ہزاروں پاکستانی پاکستان میں عید منانے کے خواہش مند تھے لیکن پی آئی اے کی پروازوں پر پابندی کی وجہ سےغیر ملکی ایئرلائنز پر سفرکرنے کے علاوہ ان کے پاس کوئی اور چارہ نہیں۔

کئ پاکستانیوں نے مئی اور جون کے مہینے سے ہی بکنگ کروا رکھی تھی لیکن غیر ملکی ایئرلائن کی طرف سے پروازوں کی منسوخی کی وجہ سے یہ خدشہ ظاہر کیا جا رہا تھا کہ کئی پاکستانی پاکستان آ کر عید نہیں منا سکیں گے۔

اس حوالے سے اوورسیز پاکستانیوں نے وزیراعظم پورٹل اور سوشل میڈیا پر حکومتی ارکان اور سول ایوی ایشن اتھارٹی کی توجہ اس جانب مبذول کروائی ہے جس کے بعد سول ایوی ایشن اتھارٹی نے مختلف ایئرلائنز کو نوٹس جاری کیے ہیں۔سول ایوی ایشن اتھارٹی کی جانب سے کہا گیا ہے کہ ان پروازوں کی مسلسل منسوخی کی وجہ سے پاکستانیوں کو نقصان اور ذہنی پریشانی کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے لہذا مسئلہ کا فوری اور موثر حل نکالا جائے۔

ایئرلائنزکو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ بکنگ کروانے والے پاکستانیوں کو فورا وطن لانے کا انتظام کریں بصورت دیگر ان کے خلاف ضابطہ کی کارروائی کی جائے گی اور جرمانہ کیا جائے گا۔ پروازوں کی منسوخی کی وجہ سے ان پاکستانیوں کو رہائش اور غذائی قلت کا بھی سامنا ہے ۔لہذا ایئر لائنز کو متنبہ کیا گیا ہے کہ وہ جلد از جلد مسافروں کو رہائش اور خوراک فراہم کریں اور ان کی وطن واپسی یقینی بنائیں۔ مسافروں کو ٹکٹ کی رقم واپس کی جائے اور ان کے نقصان کے ازالے کو یقینی بنایا جائے۔

سول ایوی ایشن اتھارٹی نے غیر ملکی ایئرلائنز کو آٹھ جولائی تک مسافروں کے مسائل حل کرنے کی مہلت دی ہے اس کے بعد ضابطہ کے مطابق کاروائی عمل میں لائی جائے گی۔

یاد رہے کہ نیشنل کمانڈ اینڈ کنٹرول سینٹر نے کرونا صورتحال میں بہتری کو مدنظر رکھتے ہوئے دو جولائی سے پروازوں کی تعداد سو فیصد بڑھا کر دس کی بجائے بیس پروازیں لانے کی اجازت دی تھی۔لیکن اس کے باوجود اوورسیز پاکستانیوں کی طرف سے پروازوں کی مسلسل منسوخ کے حوالے سے شکایات موصول ہو رہی تھیں۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے