پاکستان میں کرونامتاثرین کی تعداد میں کمی کیسے ہوئی؟

پاکستان میں کرونامتاثرین کی تعداد میں کمی کیسے ہوئی؟ یہ سوال بین الاقوامی میڈیا پر بھی کیا جا رہا ہے۔پاکستان میں پچھلے چند ماہ میں کورونا وائرس سے متاثر ہونے والوں کی تعداد میں بتدریج کمی دیکھنے میں آرہی ہے۔ اس بارے میں کئی ماہرین اس بات کو سمجھنے میں مصروفِ عمل ہیں کہ یہ ممکن تو ہو گیا، لیکن کیسے؟

اس حوالے سے پاکستان میں حال ہی میں دو مختلف طبی تحقیقات سامنے آئی ہیں جن میں ملک میں کیسز کی کمی کی وجوہات بیان کرتے ہوئے اجتماعی مدافعت حاصل کرنے کے امکانات جیسے پہلوؤں پر روشنی ڈالی گئی ہے۔

ان طبی تحقیقات کی تفصیل ذیل میں بیان کی جائے گی تاہم اس سے قبل یہ جاننا ضروری ہے کہ حکومت کا اس حوالے سے کیا موقف ہے۔

وزیرِ اعظم کے معاونِ خصوصی برائے صحت ڈاکٹر فیصل سلطان نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا ہے کہ ’تاحال ہمارے سامنے کوئی مصدقہ تحقیق نہیں ہے جس کے تحت یہ وثوق سے کہا جا سکے کہ پاکستان میں کیوں متاثرین کی تعداد میں کمی واقع ہوئی۔‘

ان کا کہنا تھا کہ ’یہ ویسے بھی ایک غیر معمولی صورتحال ہے جس کی مختلف وجوہات ہو سکتی ہیں۔ تاحال سمارٹ لاک ڈاؤن اور ٹریک اینڈ ٹریس کے ذریعے ہمیں وبا کو قابو کرنے میں خاصی مدد ملی ہے۔‘

ڈاکٹر فیصل نے بتایا کہ پاکستان میں معمولی حد تک ٹریک اینڈ ٹریس سسٹم کے ذریعے ہر روز 15 افراد کی تصدیق ہوتی رہی ہے۔ جس کے ذریعے کووِڈ سے متعلق ڈیٹا جمع کرنے میں خاصی مدد ملی۔ اور یہ تعداد کبھی کم اور کبھی زیادہ ہو جاتی ہے۔ لیکن ہم نے مسلسل اس کو استعمال کیا۔

ان کا کہنا تھا کہ اس ڈیٹا کے ذریعے سمارٹ لاک ڈاؤن نافذ کیا گیا جس کے تحت ایک علاقے میں کتنے متاثرین ہیں اس کا اندازہ لگانے کے ساتھ ساتھ ان کو مسلسل ٹریک کیا گیا۔

دوسری جانب، کورونا وائرس کی وبا کے اوائل میں صوبہ سندھ کے شہر کراچی میں متاثرین کی ایک بڑی تعداد سامنے آئی تھی۔ جبکہ مجموعی طور پر صوبہ سندھ متاثرین کے اعتبار سے ملک کا سب سے زیادہ متاثرہ صوبہ رہا ہے، جہاں تاحال کورونا متاثرین کی تعداد ایک لاکھ 33 ہزار تک ریکارڈ کی گئی ہے۔

اس سے پہلے کووڈ 19 کے متاثرین کی تعداد کم ہونے کو ٹیسٹنگ کی تعداد میں بتدریج کمی کو بھی بتایا گیا۔ لیکن اس کے باوجود متاثرین کی تعداد میں کمی واقع ہوتی رہی۔ لیکن ماہرین کسی مخصوص وجہ کی نشاندہی نہیں کر پائے ہیں۔

پاکستان میں متاثرین کی تعداد میں کمی کی وجوہات کیا ہیں؟

اب مختلف محققین نے اس پر تحقیق بھی کی ہے اور تاحال کراچی کے دو مختلف اداروں کے لیے کی جانے والی تحقیق سے دو اہم نکات سامنے آئے ہیں۔ ان میں سے ایک تحقیق یہ دعویٰ کرتی ہے کہ کراچی میں کووِڈ کے 95 فیصد متاثرین میں کورونا کی علامات ظاہر نہیں ہوتیں جس کے نتیجے میں ہسپتالوں میں متاثرین کی تعداد میں کمی واقع ہوئی ہے۔

جبکہ اسی وجہ سے پاکستان میں کووِڈ کا وہ دباؤ دیکھنے میں نہیں آیا جو باقی ممالک، جیسے سپین یا برطانیہ، میں دیکھا جا رہا ہے۔

یہ تحقیق آغا خان یونیورسٹی ہسپتال کی ایسوسی ایٹ پروفیسر ڈاکٹر فائزہ جہاں نے کی ہے۔ ان کی تحقیق کراچی کے دو اضلاع ڈسٹرکٹ ویسٹ اور ایسٹ میں وبا کے پھیلنے کے اوائل یعنی اپریل اور دوبارہ ماہِ جون کے آخر میں کی گئی۔ جس کے تحت دونوں ضلعوں سے پانچ پانچ سو رضاکاروں کو تحقیق کا حصہ بنایا گیا۔

اس تحقیق کے مطابق کراچی کے 10 میں سے نو افراد میں کورونا وائرس کے علامات ظاہر نہیں ہوتیں۔ جس کے تحت یہ دعویٰ کیا گیا کہ ملک بھر میں اسی لیے وبا کا زور دیکھنے میں نہیں آیا۔

ڈاکٹر فائزہ جہاں نے کہا کہ ’اینٹی باڈی ٹیسٹ کے ذریعے ہمیں یہ پتا چلا کہ اپریل سے جون تک کیسز کی کیا شرح رہی اور ان میں سے کتنے خاموشی سے دوسروں میں وائرس منتقل کرتے رہے۔‘

اینٹی باڈی ٹیسٹ کیا ہے اور کیوں کرایا جاتا ہے؟

اس ٹیسٹ کے لیے کسی بھی شخص کے خون کا نمونہ لیا جاتا ہے جس سے یہ پتا لگایا جاتا ہے کہ اس شخص میں وائرس موجود ہے یا نہیں۔

کسی بھی وائرس سے نمٹنے کے لیے انسان کا جسم اینٹی باڈی بناتا ہے۔ جو پھر اس وائرس کے خلاف مدافعت فراہم کرتی ہے۔ اس ٹیسٹ کو کرنے کا طریقے بھی آسان ہے اور اس کے لیے ہسپتال جانے کی ضرورت نہیں پڑتی۔ بلکہ ذیابطیس کے ٹیسٹ کی طرح انسان کی انگلی پر سوئی چبھو کر خون کا نمونہ لے لیا جاتا ہے جس کا نتیجہ دس منٹ میں مل جاتا ہے۔

یہ ٹیسٹ بڑے پیمانے پر سکریننگ کے لیے بہت فائدہ مند ہے کیونکہ ہم اس سے علامات ظاہر نہ کرنے والے متاثرہ افراد کو الگ کرسکتے ہیں اور دوسری جانب وہ لوگ جو بغیر علامات ظاہر کیے ٹھیک ہو گئے ہیں ان سے کورونا وائرس کے شدید متاثرہ مریضوں کے علاج کے لیے پلازما لیا جاسکتا ہے۔

پاکستان میں کورونا کی دوسری لہر

جبکہ ایک اور تحقیق میں یہ دعویٰ کیا گیا ہے کہ کراچی میں 36 فیصد افراد میں اینٹی باڈیز ٹیسٹ مثبت آیا ہے اور اگر یہ ستمبر اور آنے والے مہینوں میں مسلسل مثبت ہی رہتا ہے تو اس سے ملک کو کورونا وبا کی دوسری لہر سے بچایا جا سکتا ہے۔یہ تحقیق آکسفورڈ یونیورسٹی پریس کے پبلک ہیلتھ جرنل کے لیے کی گئی ہے جس میں محقق ڈاکٹر ثمرین زیدی نے یہ دعویٰ کیا ہے کہ عالمی ادارہ صحت کے مطابق اگر 60 فیصد آبادی میں کسی بھی انفیکشن یا وائرس کے خلاف اینٹی باڈی مثبت آتا ہے تو اس کو اجتماعی مدافعت کہا جاتا ہے۔بی بی سی سے بات کرتے ہوئے انھوں نے کہا کہ ’اس تحقیق سے ہم یہ اندازہ کر رہے ہیں کہ پاکستان میں اب تک یعنی ستمبر تک مزید لوگوں میں اینٹی باڈی مثبت ہو گئی ہوں گی، اور اس بارے میں مزید تحقیق بھی جاری ہے، تو شاید پاکستان کورونا وائرس کی دوسری لہر سے محفوظ رہ سکے گا۔‘لیکن انھوں نے کہا کہ اس میں کچھ باتیں ابھی تک واضح نہیں ہوئی ہیں جیسے کہ یہ اینٹی باڈیز انسانوں میں کتنے عرصے تک موجود رہیں گی؟ اور کیا کورونا وائرس دوبارہ ہو سکتا ہے؟ یا انسان کے جسم میں پہلے سے کورونا وائرس کے باقیات موجود ہوتے ہیں جو بعد میں ایکٹو ہو جاتے ہیں۔جبکہ دوسری جانب عالمی ادارہ صحت یعنی ڈبلیو ایچ او کی کورونا وبا پر جاری تحقیق اس کے برعکس بتاتی ہے۔ عالمی ادارہ صحت کے مطابق سیرو پریویلنس یعنی خون کے نمونے حاصل کرنے کے ذریعے اجتماعی مدافعت کا اندازہ نہیں لگایا جاسکتا، کیونکہ یہ تحقیق اس لیے نہیں بنائی گئی ہے۔اس کے علاوہ، عالمی ادارہ صحت کے مطابق، اینٹی باڈی ٹیسٹ کا مثبت آنا اجتماعی مدافعت کی نشاندہی نہیں کرتا۔ اینٹی باڈی ٹیسٹ صرف اس بات کا اندازہ لگاتا ہے کہ وائرس کس حد تک پھیل چکا ہے۔ اینٹی باڈی ٹیسٹ سے یہ اندازہ نہیں لگایا جاسکتا کہ اجتماعی مدافعت ہے یا نہیں۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے