چین اور یورپ کے درمیان ماحولیات سمیت اہم امور پر بات چیت

چین اور یورپ کے درمیان ماحولیات سمیت اہم امور پر بات چیت ۔ جرمن چانسلر انگیلا میرکل اور فرانسیسی صدر نے اپنے چینی ہم منصب شی جن پنگ کے ساتھ بات چیت میں انسانی حقوق اور ماحولیات جیسے اہم امور پر تبادلہ خیال کیا ہے۔ چین اور ان ممالک کے درمیان فضائی سفر جلد ہی بحال ہونے کی توقع ہے۔
چینی صدر شی جن پنگ نے چھ جولائی پیر کے روز جرمن چانسلر انگیلا میرکل اور فرانس کے صدر ایمانوئل میکروں کے ساتھ ویڈیو کانفرنسنگ کے ذریعے بات چیت کی اور چین اور یورپ کے درمیان تعلقات میں بہتری پر زور دیا۔

دوسری جانب اس ورچوول میٹنگ کے دوران جرمن چانسلر انگیلا میرکل اور فرانس کے صدر ایمانوئل میکروں نے چین میں انسانی حقوق اور ماحولیات سے متعلق مسائل کو اٹھایا۔ ان رہنماؤں کے درمیان یہ گفتگو ایک ایسے وقت ہوئی ہے جب ہانگ کانگ اور ایغور مسلم اقلیتوں کے تعلق سے چین کے بڑھتے ہوئے آمرانہ رویے سے یورپ اور چین کے درمیان تعلقات قدر ے کشیدہ ہیں۔

ملاقات کی تفصیلات

فرانس میں ایوان صدر سے جاری ہونے والے ایک بیان میں کہا گیا کہ گلاسگو میں ماحولیات سے متعلق اقوام متحدہ کے سربراہی اجلاس (سی پی او 26) اور رواں برس کے اواخر میں روم میں ہونے والی جی 20 سربراہی کانفرنس سے قبل اس سے متعلق امور پر مختلف موقف کے حوالے سے تبادلہ خیال کرنے کے لیے یہ بات چیت ہوئی ہے۔

فرانسیسی ایوان صدر کے بیان کے مطابق اس بات چیت کا مقصد ان کانفرنسز کے حوالے سے کئی امور پر پائے جانے والے اختلافات پر تبادلہ خیال کرنا تھا۔ چینی صدر کا کہنا تھا کہ وہ یورپ اور چین کے درمیان بہتر تعاون چاہتے ہیں جبکہ جرمن چانسلر میرکل اور فرانسیسی صدر میکروں نے شی جن پنگ سے کوئلے سے چلنے والے بجلی گھروں کے لیے چینی حکومت کی امداد اور حمایت روکنے کی اہمیت پر زور دیا۔

تینوں قومی رہنماؤں نے یورپ میں چینی کمپنیوں کے لیے اور چین میں یورپی کمپنیوں کے لیے ایک بہتر ماحول بنانے کی سمت میں کام کرنے کی ضرورت پر زور دیا۔ بات چیت کے دوران ایران جوہری معاہدے پر بھی تبادلہ خیال ہوا۔

اس حوالے سے فرانس کے ترجمان کا کہنا تھا کہ یہ معاہدہ، ”جتنی جلدی ممکن ہو اتنی جلدی کیا جا نا چاہیے۔” جرمنی، چین اور فرانس ایران جوہری معاہدے کے شراکت دار ہیں جنہوں نے اس معاہدے پر دستخط کر رکھے ہیں۔

فرانس کی جانب سے بیان میں یہ بھی کہا گیا کہ عالمی وبا کے پس منظر میں، ”ایک دوسرے کے اصول و ضوابط کا خیال رکھتے ہوئے فضائی راستوں کو بھی جتنی جلدی ممکن ہو بحال کرنے کی ضرورت ہے۔”

انسانی حقوق سے متعلق گفتگو


جرمن چانسلر انگیلا میرکل اور فرانس کے صدر میکروں نے اس موقع پر چینی صدر سے ملک میں، ”جبری مشقت کے خلاف جنگ سے متعلق اپنے مطالبات دہرائے” اور چین میں ایغور مسلم اقلیتی برادری کے مسائل کے بارے میں بھی بات چیت کی۔

انسانی حقوق کی علمبردار بین الاقوامی تنظیموں کا کہنا ہے کہ چینی حکام نے تقریباً دس لاکھ ایغوروں اور دیگر بیشتر مسلم برادری کے لوگوں کو قید میں رکھا ہوا ہے۔ ان تنظیموں کے مطابق ان تمام افراد سے حراستی کیمپوں میں جبری مشقت کروائی جاتی ہے۔

ایک الزام یہ بھی ہے کہ چین اس برادری میں نسلی افزائش اور آبادی کو کم کرنے کے مقصد سے خواتین کی جبری نس بندی بھی کروا رہا ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے