ڈارک ویب کیخلاف کارروائی،150 افراد گرفتار

ڈارک ویب کیخلاف کارروائی،150 افراد گرفتار ۔یورو پول نے ڈارک ویب کیخلاف کارروائی کرتے ہوئے عالمی سطح پر 150 افراد گرفتار کرلیے۔

یورو پول سے جاری بیان کے مطابق Dark HunTOR نامی آپریشن امریکا، برطانیہ، آسٹریلیا، بلغاریہ، فرانس، جرمنی، اٹلی، نیدر لینڈز اور سوئٹزر لینڈ میں کیا گیا۔

اس آپریشن میں مشتبہ طور پر غیر قانونی اشیاء کی آن لائن خرید و فروخت کے الزام میں 150 افراد کو گرفتار کرلیا گیا ہے۔

ڈارک ویب کیا ہے؟

ڈارک انٹرنیٹ کی اصطلاح انٹرنیٹ پر موجود ایسے نیٹ ورک سرور کے لیے استعمال کی جاتی ہے جو عام انٹرنیٹ صارفین کی پہنچ سے دور یا ناقابل تلاش ہوتے ہیں ۔

ڈارک ویب ورلڈ وائیڈ ویب کا ایسا حصہ ہے جس تک پہنچنے کے لیے آپ کو خصوصی سافٹ وئیر کی ضرورت ہوتی ہے لیکن جب آپ ایک مرتبہ اس تک پہنچ جاتے ہیں تو وہ بالکل ایسے ہی نظر آتی ہے جیسے کوئی بھی عام ویب سائٹ ہوںتاہم اس دنیا میں موجود کچھ ویب سائٹ اس حد تک پوشیدہ ہوتی ہیں کہ کوئی سرچ انجن بھی انہیں ڈھونڈ نہیں سکتا اور آپ صرف انہیں اسی صورت میں دیکھ سکتے ہیں جب آپ کے پاس ان کا خصوصی ایڈریس ہو۔

انٹرنیٹ کی دنیا کے اس حصے یعنی ڈارک ویب میں خصوصی مارکیٹیں یعنی ’ڈارک نیٹ مارکیٹس‘ بھی قائم ہوتی ہیں جہاں غیر قانونی دھندہ کیا جاتا ہے مثلاً وہاں پر آتشیں اسلحہ، منشیات یا خصوصی فحش فلمیں فروخت کی جاتی ہیں اور اس کے لیے خصوصی کرنسی مثلاً بٹ کوائن کا استعمال کیا جاتا ہے۔

اس دنیا میں ایسی بھی مارکیٹس موجود ہوتی ہیں جہاں آپ کو اجرتی قاتل دستیاب ہوتے ہیں جنہیں آپ خرید کر کسی کو بھی قتل کروا سکتے ہیں۔ یہ دنیا ایسے لوگوں اور گروہوں کا مسکن ہوتی ہیں جو خود کو عام دنیا یا حکومتوں اورقانون نافذ کرنے والے اداروں سے بچا کر رکھنا چاہتے ہیں۔

ڈارک ویب اور قانون

ایک تحقیق کے مطابق گوگل سرچ انجن کے ڈیٹا بیس میں صرف 16 فیصد ویب صفحات کا اندراج موجود ہے جبکہ باقی ویب سائٹس اب بھی گوگل کی پہنچ سے دور ہیں۔ اس لیے انہیں کسی کے لیے بھی تلاش کافی مشکل ہوتا ہے۔

ایسی صورتحال میں ڈارک ویب قانون نافذ کرنے والے اداروں کے کام کو مشکل ضرور بنا دیتی ہیں مگر ایسی مثالیں بھی موجود ہیں جب سیکورٹی ایجنسیاں ایسی ویب سائٹس تک پہنچنے اور ان کو چلانے یا استعمال کرنے والوں تک پہنچنے میں کامیاب رہی ہیں۔

اس کی ایک مثال ڈارک ویب پر منشیات کا کاروبارکرنے والی بڑی مارکیٹ ’ سلک روڈ‘ کو چلانے والے شخص راس البرکٹ کی گرفتاری میں کامیابی ہے۔

اسی طرح امریکی ادارے ایف بی آئی نے حال ہی میں ڈاک ویب پر بچوں سے جنسی تشدد کی ویب سائٹ چلانے والے 2 افراد کو بھی گرفتار کیا تھا۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے