کشمیر کی آزادی کے علمبردار حریت رہنما سید علی گیلانی وفات پا گئے

کشمیر کی آزادی کے علمبردار حریت رہنما سید علی گیلانی وفات پا گئے ۔کشمیر کے علیحدگی پسند رہنما سید علی گیلانی کا بدھ اور جمعرات کی درمیانی شب میں انتقال ہوا۔ اس تناظر میں بھارتی حکومت نے خطہ کشمیر میں سخت ترین پابندیاں عائد کر دی ہیں اور فون اور انٹرنیٹ سروسز بھی بڑی حد تک معطل ہیں۔


ان کی وفات کی اطلاع ملتے ہی بھارتی حکام نے وادی کشمیر میں الرٹ جاری کر دیا۔ اس وقت کشمیر میں ہر طرف زبردست فوج اور نیم فوجی دستوں کا پہرہ ہے۔ فون، انٹرنیٹ اور آمد و رفت پر سخت پابندیاں عائد کر دی گئی ہیں۔

سید علی گیلانی کی دیرینہ خواہش تھی کہ انہیں سرینگر میں واقع قبرستان شہداء میں دفن کیا جائے تاہم اطلاعات کے مطابق حکام نے اس خدشے کے پیش نظر کہ کشمیریوں کی ایک بہت بڑی تعداد ان کے جنازے میں شرکت کے لیے جمع ہو سکتی ہے، جس سے سکیورٹی کا مسئلہ کھڑا ہو سکتا تھا، فجر کی نماز کے وقت ہی انہیں گھر کے قریب واقع حیدر پورہ کے قبرستان میں خاموشی سے دفن کردیا گیا۔

حالات سے باخبر ایک شخص کے مطابق ان کے جنازے میں ان کے بیٹوں سمیت تقریبا ًپچاس افراد ہی شریک ہو پائے۔

سید علی گیلانی گزشتہ تقریبا دس برسوں سے نظر بند تھے اور حکومت نے ان کی تمام سرگرمیوں کو بند کر رکھا تھا۔ ان کے انتقال کا یہ سانحہ ایک ایسے وقت پیش آیا ہے جب ان کی تنظیم کے بیشتر رہنما بھارتی جیلوں میں قید ہیں۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے