کوہِ سلیمان سے اعلیٰ معیاری نینوکلے کے وسیع ذخائر دریافت

کوہِ سلیمان سے اعلیٰ معیاری نینوکلے کے وسیع ذخائر دریافت ہوئے ہیں۔ پاکستان میں ارضیاتی حوالے سے بین الاقوامی اہمیت کے حامل کوہ سلیمان سے اعلیٰ معیار کے نینو گارے (کلے) کے وسیع ذخائر دریافت ہوئے ہیں۔ ان کی بدولت ایک جانب تو خطے میں صاف پانی کے حصول میں مدد ملے گی تو دوسری طرف ایک اہم صنعتی خام مال کا حصول ممکن ہوگا۔

اس ضمن میں برطانیہ کی جامعہ ہڈرسفیلڈ کے ڈاکٹر محمد عثمان غوری نے اہم کردار ادا کیا ہے۔ ڈاکٹر عثمان نے بہاؤالدین ذکریا یونیورسٹٰی ملتان سے ماسٹرز کے بعد یونیورسٹی آف ہڈرسفیلڈ سے ڈاکٹریٹ کی ہے اور اب اسی جامعہ کے شعبہ فارمیسی میں سینیئر ریسرچ فیلو ہیں۔

اس ضمن میں کئ اداروں کے ماہرین کی جانب سے ایک وسیع مطالعہ کیا گیا جس کی تفصیلات نیچر سائنٹفک رپورٹس میں شائع ہوئی ہیں۔ تحقیق میں کوہِ سلیمان کے خام گارے سے ایک اہم نینو معدن، مونٹ موریلونائٹ کے ماحول دوست اور پائیدار حصول کے کئی تجربات کئے گئے۔ حاصل شدہ نتائج سے خوشخبری ملی ہے کہ خام مال سے مونٹ موریلونائٹ کا حصول نہ صرف تمام ضروری معیارات عین مطابق ہےبلکہ کم خرچ طریقے سے اس خزانے کو تجارتی پیمانے پر بھی نکالا جاسکتا ہے جس سے کئی معاشی ثمرات حاصل ہوسکتے ہیں۔

مونٹ موریلونائٹ کیا ہے؟

مونٹ موریلونائٹ قدرتی طور پر نینو مٹیریل گارہ ( نینوکلے) ہے جو کئ خطوں میں عام پایا جاتا ہے۔ اس میں ایلومینیئم آکسائیڈ کی دو تہوں کے درمیان سلیکا کسی سینڈوچ کی طرح موجود ہوتا ہے ۔ یہ مادہ کئی طرح کے طبعی اور کیمیائی خواص سے مالامال ہے۔ یہ نمی جذب کرتا ہے، مسام دار ہے، زہرربا بھی ہے اور بیکٹیریا کش بھی، کہیں یہ لچکدار ہے تو کہیں لیس دار اور وقت کے ساتھ گاڑھا بھی ہوسکتا ہے۔ اگر آپ کے پاس علم نہیں تو اس سے صرف پیالے اور کوزے بنائیں اور اگر ٹیکنالوجی ہے تواعلیٰ صنعت میں استعمال کرکے بہت دولت کمائیں کیونکہ پانی صاف کرنے، طب، صنعت، الیکٹرانکس اور کاسمیٹکس میں اسے بڑے پیمانے پر استعمال کیا جارہا ہے۔

بہت بعض ماہرین کا یہاں تک کہتے ہیں کہ زمین پر زندگی کی ابتدا کے لیے جو تعامل (ری ایکشن) ضروری تھے ان کی تشکیل میں بھی اسی نینو مٹی نے اہم کردار ادا کیا تھا۔ لیکن اب یہی معدن میں پاکستان میں ترقی کی روح بھی پھونک سکتی ہے۔

ایک روپیہ نوے پیسے فی گرام!

جنوبی پنجاب کے سلسلہ کوہِ سلیمان سے جمع کئے گئے خام گارے میں مونٹ میریلونائٹ کی مقدار عام طور پر 21 سے 25 فیصد نوٹ کی گئی۔ بعد ازاں خام مٹی کو یونیورسٹی آف ہڈرسفیلڈ کی جدید تجربہ گاہوں میں بین الاقوامی معیارات اور پروٹوکولز کے ساتھ پرکھا گیا۔ اس صبر آزما کام میں مٹی کو چھانا اور پیسا گیا، اسے حرارت دی گئی اور کئی مقام پر خالص مونٹ میریلونائٹ کی مقدار کو نوٹ کیا گیا۔

اس عمل میں ایکسرے ڈفریکشن، اسکیننگ الیکٹرون مائیکرواسکوپی اور ایکس رے اسپیکٹرواسکوپی سمیت کئ طرح کی ٹیکنالوجی استعمال کی گئیں اوراس کےزبردست ثمرات سامنے آئے۔ چھوٹے پیمانے پر خام گارے سے جو خالص ترین مونٹ موریلونائٹ حاصل کی گئ اس کی مقدار 90 سے 94 فیصد تھی۔ یعنی تمام معیارات کے ساتھ اس اہم اور قیمتی شے کی خالص ترین مقدار کو حاصل کیا جاسکتا ہے جو اس کی تجارتی پیمانے پر تخلیص کا ایک اہم ثبوت بھی ہے۔ اسی مطالعے سے یہ بھی معلوم ہوا کہ اگر پاکستانی خام مٹی کو بڑے (تجارتی یا کمرشل) پیمانے پر خالص بنایا جائے تو اس سے 85 تا 89 فیصد خالص مونٹ موریلونائٹ حاصل ہوسکتی ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے