کیاکرکٹ کو سیاسی مقاصد کے لئے استعمال کیا جا رہا ہے؟

کیاکرکٹ کو سیاسی مقاصد کے لئے استعمال کیا جا رہا ہے؟ پاکستانی حکومت کا دعویٰ ہے کہ نیوزی لینڈ کے دورہ کرکٹ کی منسوخی کا بنیادی طور پر تعلق ایک ایسی سازش سے ہے جس کے تحت پاکستان کو تنہا کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔
کچھ ناقدین کا خیال ہے کہ دہشتگردی کی کچھ حالیہ کارروائیوں نے منفی تاثر پیدا کیا، جس کی وجہ سے کرکٹ ٹیمیں دورہ منسوخ کرنے پر مجبور ہوئیں۔

پاکستان کے وزیرداخلہ شیخ رشید اور وزیر اطلاعات و نشریات فواد چوہدری نے اس سازش کے حوالے سے ایک طویل پریس کانفرنس کی جس میں انہوں نے کہا ہے احسان اللہ احسان کے نام پر ایک پوسٹ کی گئی اور جو ڈیوائس استعمال کی گئی، وہ بھارت کی تھی۔

فواد چوہدری نے منگل کو اس بات کا اشارہ دیا تھا کہ پاکستان کو اس لیے سزا دی جا رہی ہے کیوں کہ عمران خان نے دو ٹوک انداز میں ‘نو‘ کہا تھا۔ سیاسی مبصرین کے خیال میں فواد چوہدری کا اشارہ عمران خان کے اس بیان کی طرف تھا جس میں انہوں نے کچھ عرصے پہلے یہ اعلان کیا تھا کہ پاکستان کسی بھی طور پر کسی نئی جنگ کا حصہ نہیں بنے گا اور امریکا کو فضائی اڈے نہیں دیے جائیں گے۔

سیاسی مقاصد کے لیے کرکٹ کا استعمال

پاکستان تحریک انصاف کے رکن قومی اسمبلی محمد اقبال خان آفریدی کا کہنا ہے کہ پاکستان میں ڈومور پالیسی مزید نہیں چلے گی۔ انہوں نے ڈی ڈبلیو کو بتایا،” عمران خان نے واضح طور پر یہ اعلان کر دیا تھا کہ پاکستان امریکا کو کسی طور پر بھی فضائی اڈے نہیں دے گا اس لیے پاکستان کو تنہا کرنے کی کوشش کی جارہی ہے۔ نیوزی لینڈ، برطانیہ اور آسٹریلیا کیونکہ امریکا کے حلقہ اثر میں ہیں اس لیے پاکستان پر دباؤ بڑھانے کے لیے وہ کرکٹ کو سیاسی مقاصد کے لیے استعمال کررہے ہیں۔‘‘

حکومت کی نااہلی

کچھ ناقدین کا خیال ہے کہ دوروں کی منسوخی سازش نہیں بلکہ حکومتی نااہلی ہے۔ پیپلز پارٹی کے رہنما اور سابق ڈپٹی چیئرمین سینٹ صابر علی بلوچ کا کہنا ہے کہ یہ حکومت کی نااہلی ہے کہ بین الاقوامی کرکٹ ٹیمیں پاکستان آنے سے انکار کر رہی ہیں۔

انہوں نے ڈی ڈبلیو کو بتایا، ” وزیراعظم سے لے کر دیگر وزرا تک یہ حکومت نااہل لوگوں سے بھری ہوئی ہے ان میں گورنمنٹ چلانے کی صلاحیت نہیں ہے۔ مثال کے طور پر اگر لال مسجد کا مولوی مولانا عبدالعزیز یا کوئی اور پاکستان میں سلامتی کے حوالے سے کوئی منفی تاثر پیدا کر رہا ہے، تو حکومت کو صورت حال کو کنٹرول کرنا چاہیے تھا کیونکہ اس کی ذمہ داری تھی۔‘‘

پاکستان دشمن عناصر نے منفی تاثر پیدا کیا

خیبر پختون خواہ کے ضلع خیبر سے تعلق رکھنے والے تجزیہ نگار عطاء اللہ خان آفریدی کا کہنا ہے کہ حکومتی پالیسی سے دہشت گردوں نے فائدہ اٹھایا۔ انہوں نے ڈی ڈبلیو کو بتایا،” افغانستان میں افغان طالبان کی کامیابی کے بعد پاکستان نے ان کی حمایت شروع کر دی اور ہم نے نظر انداز کر دیا کہ اس کی وجہ سے ٹی ٹی پی کے بھی حوصلے بڑھے، جس نے اگست اور ستمبر میں کئی حملے کیے۔ ان حملوں کو پاکستان دشمن عناصر نے منفی طور پر پیش کیا اور یہ تاثر پیدا کیا کہ پاکستان میں سلامتی کے خطرات ہیں۔ جس کی وجہ سے غیر ملکی ٹیموں کے ذہن میں شکوک و شبہات پیدا ہوئے اور انہوں نے سکیورٹی کے حوالے سے عدم اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے دورے منسوخ کر دیے۔‘‘

ان کا مزید کہنا تھا کہ شاہ محمود قریشی کی طرف سے ٹی ٹی پی والوں کو معافی کی دعوت نے بھی منفی تاثر کو فروغ دیا۔ ”اس سے کچھ لوگوں کو یہ کہنے کا موقع مل گیا کہ شاید حکومت ٹی ٹی پی کے دہشت گردوں سے ڈر گئی ہے، اسی لیے ان کو معافی کی پیشکش کر رہی ہے۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ ہم دہشتگردی کو مکمل طور پر ختم کریں ورنہ خطرات اسی طرح بدستور قائم رہیں گے اور غیرملکی ٹیمیں پاکستان نہیں آئیں گی۔‘‘

کرکٹ واپس آئے گی

سابق کرکٹر باسط علی نے اس حوالے سے بات کرتے ہوئے کہا ، ” میں اس مسئلے پر صرف یہی کہنا چاہتا ہوں کہ انشاء اللہ پاکستان میں کرکٹ کا ایک بار پھر عروج ہوگا اور پاکستان ٹی ٹونٹی ورلڈ کپ جیتے گا اور جو ٹیمیں ابھی آنا نہیں چاہتیں، وہ خود آ کر یہاں کھیلیں گی۔‘‘

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے