ہزاروں جرمن تارکین وطن ملک بدری سے بچ گئے۔

ہزاروں جرمن تارکین وطن ملک بدری سے بچ گئے۔ جرمنی میں آٹھ ہزار پناہ گزینوں کو پیشہ ورانہ تربیت کے حصول کے لیے ’ڈُلڈُنگ‘ یعنی ملک میں رہنے کا عارضی اجازت نامہ جاری کیا گیا۔ ان افراد میں دو ہزار سے زائد افغان اور تین سو پاکستانی مہاجرین شامل ہیں۔

تفصیلات

جرمنی کی وفاقی وزارت داخلہ نے بتایا ہے کہ رواں برس مئی کے اواخر تک ایسے آٹھ ہزار پناہ گزینوں کو رجسٹر کیا گیا ہے، جن کو ووکیشنل ٹریننگ یا پھر پیشہ ورانہ تربیت حاصل کرنے کی وجہ سے ‘آؤس بِلڈُنگس ڈُلڈُنگ‘ یعنی تربیت مکمل کرنے تک عارضی رہائش کی اجازت دی گئی ہے۔
وزارت داخلہ کے مطابق تربیت حاصل کرنے والے آٹھ ہزار ایک پناہ گزینوں میں سے دو ہزار سے زائد کا تعلق افغانستان سے ہے۔ اس کے علاوہ ایک ہزار سے زیادہ پناہ گزینوں کا تعلق گیمبیا اور عراق سے ہے۔ ایران اور گِنی سے تقریباﹰ آٹھ سو جبکہ پاکستان، البانیہ، آرمینیا اور نائیجیریا سے فی ملک تقریباﹰ تین سو پناہ گزینوں کو جرمنی میں پیشہ ورانہ تربیت حاصل کرنے کی اجازت دی گئی۔

علاوہ ازیں افغانستان سے تعلق رکھنے والے کئی پناہ گزین اپنی سیاسی پناہ کی درخواست مسترد ہونے کے بعد ملک بدری سے بچنے کے لیے اکثر اس اجازت نامے کا استعمال کرتے ہیں۔ تاہم جرمنی میں غیرملکیوں کے مرکزی رجسٹر کے اعداد و شمار میں یہ رجحان وسیع پیمانے پر بڑھتا دکھائی نہیں دیتا۔

ڈُلڈُنگ کیا ہے؟

جرمنی میں رہنے کا ‘ڈُلڈُنگ‘ نامی اجازت نامہ ایسے افراد کو جاری کیا جاتا ہے جن کی پناہ کی درخواستیں تو مسترد ہو چکی ہوتی ہیں لیکن انہیں اپنے آبائی ملک واپس بھیجنا ممکن نہیں ہوتا۔ مثال کے طور پر ان کے آبائی ملک واپس سفر کرنے کا کوئی ذریعہ موجود نہیں، صحت کے مسائل ہیں، یا پھر خاندانی وجوہات کی بنا پر وہ اپنے ملک واپس نہیں جاسکتے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے