ہیپاٹائٹس سی وائرس کی دریافت پر طب کا نوبل انعام برائے 2020

ہیپاٹائٹس سی وائرس کی دریافت پر طب کا نوبل انعام برائے 2020 کیرولنسکا انسٹی ٹیوٹ کی نوبل اسمبلی نے اس سال فعلیات اور طب (فزیالوجی اینڈ میڈیسن) کے نوبل انعام کا اعلان کردیا ہے جس کے مطابق ہیپاٹائٹس سی وائرس کی دریافت پر ہاروے جے آلٹر، مائیکل ہوٹن اور چارلس ایم رائس کو نوبل انعام کا مشترکہ حقدار قرار دیا گیا ہے۔

اس سال فعلیات اور طب (فزیالوجی اینڈ میڈیسن) کا نوبل انعام حاصل کرنے والے تین سائنسدانوں میں سے ایک (مائیکل ہوٹن) کا تعلق برطانیہ سے ہے جبکہ باقی دو (ہاروے آلٹر اور چارلس رائس) امریکی ہیں۔

ان تینوں ماہرین نے ہیپاٹائٹس سی وائرس دریافت کرنے کے علاوہ ایسے ٹیسٹ بھی ایجاد کیے جن کی مدد سے خون کے نمونوں میں ہیپاٹائٹس سی وائرس کی موجودگی دریافت کی جاسکتی ہے؛ اور یوں اس وائرس کا پھیلاؤ محدود کیا جاسکتا ہے۔

واضح رہے کہ ہیپاٹائٹس سی وائرس جگر پر حملہ آور ہوکر اسے تباہ کر ڈالتا ہے جبکہ جگر کے کینسر کی سب سے بڑی وجہ بھی یہی وائرس ہے۔ یہ خون کے ذریعے ایک سے دوسرے انسان میں منتقل ہوتا ہے۔

عالمی ادارہ صحت کے مطابق دنیا بھر میں ہیپاٹائٹس سی وائرس کے دائمی مریضوں کی تعداد 7 کروڑ 10 لاکھ کے قریب ہوسکتی ہے۔ گزشتہ سال اس وائرس نے لگ بھگ چار لاکھ انسانی جانوں کا خراج وصول کیا۔

اگرچہ ہیپاٹائٹس سی وائرس کی کوئی ویکسین تو ابھی تک تیار نہیں ہوسکی لیکن پھر بھی اینٹی وائرل دواؤں سے اس کی شدت کو قابو میں رکھا جاسکتا ہے۔

اس سال کا نوبل انعام برائے طب و فعلیات ان تینوں سائنس دانوں کی گراں قدر تحقیقات کا اعتراف ہے جن کی بدولت ہم ہیپاٹائٹس سی وائرس کی خون میں موجودگی کا بروقت پتا چلانے کے قابل ہوئے؛ اور نتیجتاً اس بیماری کے عالمی پھیلاؤ میں نمایاں طور پر کمی واقع ہوئی۔

بتاتے چلیں کہ سال 2020 میں ہر زمرے کےلیے نوبل انعام کی رقم 10 ملین (ایک کروڑ) سویڈش کرونا رکھی گئی ہے جو پاکستان روپوں میں تقریباً 18 کروڑ 50 لاکھ روپے جتنی بنتی ہے۔

فزیالوجی اینڈ میڈیسن کے نوبل انعام کی رقم ان تینوں ماہرین میں مساوی تقسیم کی جائے گی۔

طب/ فعلیات کے نوبل انعامات: تاریخی معلومات

1901 سے 2018 تک اس شعبے میں 110 مرتبہ نوبل انعامات دیئے جاچکے ہیں۔ پہلی اور دوسری جنگِ عظیم کے دوران نو سال ایسے تھے جن میں کوئی نوبل انعام نہیں دیا گیا: 1915 سے 1918 تک، 1921، 1925، اور 1940 سے لے کر 1942 تک۔
ان 119 سال میں کُل 219 افراد کو نوبل انعام برائے طب/ فعلیات دیا جاچکا ہے۔
ان 219 نوبل انعام یافتگان برائے طب/ فعلیات میں صرف 12 خواتین شامل ہیں۔
ان میں سے 39 نوبل انعامات برائے طب/ فعلیات ایک ایک سائنسدان کو (بلا شرکتِ غیرے)؛ 33 انعامات دو دو ماہرین کو مشترکہ طور پر؛ جبکہ اس زمرے کے 38 نوبل انعامات میں تین تین تحقیق کاروں کو مشترکہ حقدار قرار دیا گیا۔
باربرا مکلنٹاک وہ واحد خاتون تھیں جنہیں متحرک جینیاتی اجزاء کی دریافت پر بلا شرکتِ غیرے 1983 کا نوبل انعام برائے طب/ فعلیات دیا گیا۔
نوبل اسمبلی نے اصولی طور پر طے کیا ہوا ہے کہ کسی بھی نوبل انعام میں تین سے زیادہ افراد کو شریک قرار نہیں دیا جائے گا؛ جبکہ ہر سال کسی بھی ایک شعبے میں زیادہ سے زیادہ دو تحقیقات کو مشترکہ نوبل انعام دیا جائے گا۔
2019 تک طب/ فعلیات کا نوبل انعام حاصل کرنے والوں کی اوسط عمر تقریباً 60 سال رہی ہے۔
اس کٹیگری میں سب سے کم عمر نوبل انعام یافتہ سائنسدان فریڈرک گرانٹ بینٹنگ تھے جنہیں صرف 32 سال کی عمر میں 1923 کا نوبل انعام برائے طب/ فعلیات دیا گیا۔ انسولین کی دریافت پر انہیں اور جان جیمس رکارڈ میکلیوڈ کو مشترکہ طور پر نوبل انعام کا حقدار قرار دیا گیا۔
اسی شعبے کے معمر ترین نوبل انعام یافتہ ماہر پیٹن روس تھے جنہیں 87 سال کی عمر میں 1966 کے نوبل انعام برائے طب/ فعلیات کا نصف حصہ دیا گیا۔ انہوں نے رسولیاں پیدا کرنے والے وائرسوں پر تحقیق کی تھی۔ نوبل انعام کی رقم کا باقی نصف حصہ چارلس برینٹن ہگنز کو دیا گیا کیونکہ انہوں نے ہارمونز کے ذریعے پروسٹیٹ کینسر کے علاج پر اہم کام کیا تھا۔
نوبل انعام صرف زندہ افراد کو دیا جاتا ہے یعنی اس کےلیے کسی ایسے شخص کو نامزد نہیں کیا جاسکتا جو مرچکا ہو۔
1974 میں نوبل فاؤنڈیشن کے آئین میں تبدیلی کے ذریعے فیصلہ کیا گیا کہ آئندہ سے کسی بھی شخص کو بعد از مرگ (مرنے کے بعد) نوبل انعام نہیں دیا جائے گا؛ لیکن اگر نوبل انعام کا اعلان ہونے کے بعد متعلقہ انعام یافتہ فرد کا انتقال ہوجائے تو وہ نوبل انعام اسی کے نام رہے گا۔ 1974 سے پہلے صرف 2 افراد کو بعد از مرگ نوبل انعام دیا گیا تھا لیکن اس سال کے بعد سے اب تک کسی کو مرنے کے بعد نوبل انعام نہیں دیا گیا ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے