یورپی ملک میں تارکین وطن کو غلام بنا کر فروخت کیے جانے کا انکشاف

یورپی ملک میں تارکین وطن کو غلام بنا کر فروخت کیے جانے کا انکشاف ہوا ہے۔ یورپ پہنچنےکی خواہش میں تارکین وطن بہت سی مشکلات سے گزرتے ہیں لیکن اب جو ہولناک انکشاف سامنے آیا ہے اس کے مطابق یورپی ملک آنے والے تارکین وطن کو غلام بنا کر فروخت کر دیا جاتا ہے۔

تفصیلات

میڈیا رپورٹس کے مطابق یورپی ممالک میں آنے کے لیے لیبیا کا روٹ سب سے خطرناک تصور کیا جاتا ہے۔افریقی ممالک سے آنے والے بیشتر تارکین وطن یہی راستہ احتیارکرتے ہیں۔کچھ بنگلہ دیشی اور مصری تارکین وطن بھی اسی راستے سے یورپ میں داخل ہوتے ہیں۔

لیبیا اس وقت خانہ جنگی کا شکار ملک ہے۔یہاں کوئی مضبوط حکومت موجود نہیں جس کا فائدہ اٹھا کر بہت سے جرائم پیشہ افراد یا وار لارڈز نے اپنی اپنی ملیشیا کھڑی کر رکھی ہے۔یہاں موجود حکومت کا اپنی فورسز پر بھی مکمل کنٹرول نہیں۔اس صورت میں جو تارکین وطن یورپ جاتے ہوئے پکڑے جاتے ہیں وہ ان سرکاری یا غیر سرکاری ملیشیا کے ہتھے چڑھ جاتے ہیں ہیں جہاں ان کے ساتھ ہر طرح کا تشدد زیادتی اور ناانصافی کی جاتی ہیں۔ یہ جرائم پیشہ افراد تاوان بھی وصول کرتے ہیں۔

تارکین وطن کی خبریں دینے والی ایک ویب سائٹ نے ان ہی میں سے ایک تارک وطن کی کہانی سنائی ہے۔21سالہ تارک وطن مالی سے تعلق رکھتا ہے۔وہ پانچ ماہ سے لیبیا کی جیل میں قید ہیں اور تیسری بار پکڑے گئے ہیں۔ان کا کہنا ہے کہ جیل میں زندگی عذاب بنا دی جاتی ہے۔ پہلےدو بار انہیں تاوان کی رقم لے کر چھوڑ دیا گیا تھا۔ ان تارک وطن کا کہنا ہے کہ جیل میں تعینات اہلکار بلاوجہ قیدیوں پرتشدد کرتے نظر آتے ہیں۔انہیں ککوں سے مارا جاتا ہے۔چھوٹے چھوٹے سیلوں میں 400 تک تارکین وطن ٹھونس دیے جاتے ہیں۔اور لیٹنے کے لیے بھی جگہ نہیں بچتی۔

مصری اور بنگلہ دیشی تارکینِ جنہیں اس نے سفید تارکین کا نام دیا انہیں افریقی تارکین سے الگ رکھا جاتا ہے۔افریقی تارکین سے زیادہ برا سلوک کیا جاتا ہے سونے کے لئے بستر نہیں ملتا۔کمبل بھی قسمت والے کے حصے میں آتا ہے۔

صبح ناشتے میں چھوٹا سا بریڈ اور شام کے کھانے میں چاول یا ٹھنڈا پاستہ دیا جاتا ہے۔جسے کھانے سے پیٹ خراب ہوجاتا ہے۔

نیا انکشاف

اس تارک وطن نے اپنی گفتگو میں انکشاف کیا کہ جن تارکین کا اپنے وطن میں موجود رشتے داروں سے رابطہ نہیں ہو پاتا اور انہیں چند ماہ گزر جاتے ہیں انہیں جیل سے غائب کر کے فروخت کر دیا جاتا ہے۔اب وہ کہاں لے جائے جاتے ہیں اس بارے میں کسی کو کچھ پتہ نہیں۔اس تارک وطن نے یورپی یونین سے اپیل کی کہ وہ لیبیا کے حراستی مراکز میں قیدتارکین وطن کی مدد کرے۔اور انہیں کم از کم وہاں سے رہا کرا کےاپنے ممالک میں واپس بھیج دے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے