یورپی ممالک کو بہت جلد کروڑوں تارکین وطن کی ضرورت پڑے گی۔

یورپی ممالک کو بہت جلد کروڑوں تارکین وطن کی ضرورت پڑے گی۔ تفصیلات کے مطابق ایسے وقت میں جب یورپی ممالک میں کئ قوم پرست جماعتیں اس بات پر زور دیتی ہیں کہ تارکین وطن مقامی لوگوں کی نوکریاں چھین لیتے ہیں واشنگٹن میں قائم عالمی ادارے نے آنکھیں کھول دینے والی رپورٹ جاری کی ہے۔

واشنگٹن میں قائم عالمی ادارے "سینٹر فار گلوبل ڈیویلپمنٹ” نے یورپی ممالک میں افرادی قوت کی متوقع قلت کے بارے میں خبردار کیا ہے کہ آنے والے تیس سالوں میں یورپی ممالک جہاں پہلے سے ہی آبادی کی شرح افزائش انتہائی کم ، بوڑھی ہوتی ہوئی آبادی زیادہ ہے۔ کرونا کی وجہ سے ہلاکتوں کی تعداد بھی بہت زیادہ ہے انہیں افرادی قوت کی کمی کا سامنا کرنا پڑ سکتا ۔

مطابق آئندہ سالوں میں میں نو کروڑ ورکر کم ہو جائیں گے جس کی وجہ سے تارکین وطن کی بڑے پیمانے پر ضرورت پیش آئے گی۔رپورٹ کے مطابق جاپان پہلے سے ہی اس صورتحال کا سامنا کر رہا ہے صرف جرمنی میں ہی ایک سے ڈیڑھ کروڑ ورکرز کی ضرورت پڑے گی جبکہ فرانس میں 70 سے 80 لاکھ ورکرز کم ہو جائیں گے۔

رپورٹ کے مصنف کے مطابق ریٹائرمنٹ کی عمر بڑھنے ٹیکنالوجی کے زیادہ استعمال اور کچھ ملازمتیں آؤٹ سارس ہونے کی وجہ سے مسئلہ کچھ حد تک حل ہو سکتا ہے لیکن اس کے باوجود افرادی قوت کی کمی کو پورا کرنا تارکین وطن کی مدد کے بغیر مشکل ہوگا۔

جن شعبوں میں زیادہ مہارتوں کی ضرورت ہوگی ۔

صحت اور کیئر ،زراعت فوڈ پروسیسنگ اور کلیننگ جیسے شعبوں میں افرادی قوت کی قلت کا زیادہ سامنا کرنا پڑے گا لہذا ضروری ہے کہ یورپی ممالک تارکین وطن کو قبول کریں اور بوڑھی ہوتی ہوئی ہوئی آبادی کی کمی کے مسئلے سے نمٹنے کے لیے جلد از جلد اقدامات کریں۔

ترقی پذیر ممالک کے افراد نے رپورٹ کا خیرمقدم کیا ہے اور یورپی ممالک سے امیگریشن کے قوانین میں نرمی کرنے کی درخواست کی ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے