یورپی کمپنیاں حجاب پہننےپر ملازمت سے فارغ کر سکتی ہیں،عدالتی فیصلہ

یورپی کمپنیاں حجاب پہننےپر ملازمت سے فارغ کر سکتی ہیں،عدالتی فیصلہ صادر کر دیا گیا۔ یورپی کمپنیوں کو ملازمین کے حجاب پر پابندی کا اختیار مل گیاہے۔عدالت میں اسکارف پر پابندی سے متعلق کیس 2 مسلم خواتین کی جانب سے دائر کیا گیا تھا۔

تفصیلات

یورپین ملک جرمنی کی اعلیٰ عدالت نے کمپنیوں کو ملازمین کو اسکارف پہننے سے روکنے کا اختیار دیدیا ہے۔غیر ملکی خبر رساں ادارے کے مطابق یورپی یونین کی اعلیٰ عدالت نے یورپین کمپنیز کو اس بات کا اختیار دیدیا ہے کہ اگر وہ چاہیں تو ملازمین کو اسکارف پہننے سے روک سکتے ہیں۔ عدالت نے اپنے فیصلے میں کہا کہ کمپنیز اپنے ملازمین کو کوئی بھی ایسی چیز پہننے سے روک سکتی ہیں جس سے سیاسی، فلسفی یا مذہبی قسم کا گمان ہو تاکہ کسٹمرز کے ذہن میں غیر جانبداری کا عنصر برقرار رہے اور کسی بھی طرح کے سماجی مسئلہ سے بچا جاسکے۔عدالت نے کمپنیز کو اس بات کا بھی پابند کیا ہے کہ ان کی جانب سے پابندی حقیقی وجوہات کی بنا پر عائد کی جانی چاہیے تاہم کمپنیز کو ملازمین کے حقوق سمیت آزادی مذہب سے متعلق ملکی قانون کو بھی دیکھنا ہوگا۔

یورپی ملک جرمنی کی عدالت میں اسکارف پر پابندی سے متعلق کیس 2 مسلم خواتین کی جانب سے دائر کیا گیا تھا، ان دونوں خواتین کو اسکارف پہننے کی وجہ سے ملازمت سے ہاتھ دھونا پڑا تھا۔

واضح رہے کہ 2017 میں یورپی کورٹ آف جسٹس(ای سی جے) نے اپنے ایک فیصلے میں نجی کمپنیوں اور اداروں کو یہ اختیار دیا تھا کہ اگر وہ چاہیں تو مسلمان ملازم خواتین کے حجاب پہننے پر پابندی عائد کر سکتے ہیں۔ عدالت نے اپنے فیصلے میں کہا کہ کمپنیز اپنے ملازمین کو کوئی بھی ایسی چیز پہننے سے روک سکتی ہیں جس سے سیاسی، فلسفی یا مذہبی قسم کا گمان ہو تاکہ کسٹمرز کے ذہن میں غیر جانبداری کا عنصر برقرار رہے اور کسی بھی طرح کے سماجی مسئلہ سے بچا جاسکے۔عدالت نے کمپنیز کو اس بات کا بھی پابند کیا ہے کہ ان کی جانب سے پابندی حقیقی وجوہات کی بنا پر عائد کی جانی چاہیے تاہم کمپنیز کو ملازمین کے حقوق سمیت آزادی مذہب سے متعلق ملکی قانون کو بھی دیکھنا ہوگا۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے