یورپ میں شدید بارشوں اور سیلاب سے تباہی کا سلسلہ جاری

یورپ میں شدید بارشوں اور سیلاب سے تباہی کا سلسلہ جاری ہے۔مغربی یورپ میں تیز بارش اور سیلاب سے جرمنی میں کم سے کم 59 اور بیلجیئم میں نو افراد ہلاک ہوگئے ہیں جبکہ سینکڑوں لاپتہ ہیں اور پانی کی سطح میں اضافے سے جمعرات کو کئی گھر منہدم ہوئے ہیں۔

فرانسیسی خبر رساں ادارے کے مطابق جرمنی میں دوسری عالمی جنگِ عظیم کے بعد موجودہ سیلاب کو بدترین آفت قرار دیا جارہا ہے جبکہ ریسکیو اداروں کی جانب سے لاپتہ افراد کو تلاش کیا جارہا ہے۔

متاثرہ شہری بارشوں اور سیلاب کے پانی سے بچنے کے لیے اپنے گھروں کی چھتوں پر پناہ لینے پر مجبور ہوگئے۔
غیر متوقع تیز بارش سے پڑوسی ممالک لکسمبرگ، نیدرلینڈز اور بیلجیئم بھی طوفان کی زد میں آئے۔
اپنے دورہ امریکہ کے دوران واشنگٹن میں موجود جرمن چانسلر انجیلا مرکل نے سیلاب متاثرین کے لیے اظہار افسوس کیا۔

جرمن چانسلر نے کہا کہ ’مجھے ڈر ہے کہ آنے والے دنوں میں ہم صرف تباہی کی پوری حد دیکھیں گے۔‘
ان کا کہنا تھا کہ ’حکومت مشکل وقت میں لوگوں کی ہر ممکن مدد کی کوشش کر رہی ہے۔‘
انجیلا مرکل کے ساتھ ایک مشترکہ نیوز کانفرنس میں امریکی صدر جو بائیڈن نے جرمنی میں تباہی اور انسانی جانوں کے نقصان پر اپنے اور امریکی عوام کی جانب سے تعزیت کی۔
جرمنی کی ریاست رائن لینڈ پیلیٹینیٹ میں حکام کے مطابق 50 افراد ہلاک ہوئے ہیں جس سے جرمنی میں ہلاکتوں کی تعداد 81 پر پہنچ گئی ہے۔

جبکہ پڑوسی ملک بیلجیئم میں کم از کم 12 افراد ہلاک ہوئے ہیں اور ویلونیا میں 21 ہزار افراد بجلی سے محروم رہ گئے ہیں۔
سب سے زیادہ متاثر ہونے والے علاقوں میں جرمن ایمرجنسی سروس، پولیس اور فورس کے تقریباً 15 ہزار ارکان موجود تھے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے