یونان کے قریب تارکین وطن کی کشتی ڈوب گئی ،یونان کا ترکی پر الزام

یونان کے قریب تارکین وطن کی کشتی ڈوب گئی ،یونان کا ترکی پر الزام ۔ یونانی ساحل کے قریب تارکین وطن کی کشتی ڈوب گئی۔جس پر یونان نے ترکی پر دوبارہ تارکین وطن کو یونان بیجھنے کا الزام عائد کر دیا ہے۔

تفصیلات

تفصیلات کے مطابق یونانی ساحل فل Agean sea میں تارکین کو یونان لے جانے والی کشتی ڈوب گئی ہے ۔یونانی کوسٹ گارڈز نے دس افراد کو ڈوبنے سے بچا لیا جبکہ تین ڈوبنے والے افراد کی تلاش جاری ہے۔یہ تارکین وطن ترکی سے یونان کے جزیرے لیس بوس جا رہے تھے کہ راستے میں حادثہ پیش آیا۔یونانی کوسٹ گارڈ یورپی پی سی بارڈر فورسز کے ساتھ ملکر ہر کاپٹر اور ہوائی جہازوں کے ساتھ سرچ آپریشن کر رہی ہے۔ابھی تک یہ معلوم نہیں ہو سکا کہ ڈوبنے والے افراد کا تعلق کن ممالک سے تھا۔

دوسری جانب یونانی ویزا آپریشن کے وزیر نے ترکی اور یورپی یونین کے مابین 2016 میں ہونے والے بارڈر کنٹرول معاہدے کی خلاف ورزی کا الزام عائد کرتے ہوئے کہا ہے کہ ترک حکام نے کشتی میں سوار 13 افراد کویونان آنے کی اجازت دی۔انہوں نے مزید کہا کہ تارکین وطن کی کشتی ترک سمندری حدود میں ڈوبنے کے باوجود ترک کوسٹ گارڈ نے سرچ آپریشن اور امدادی کارروائیوں میں بھی حصہ نہیں لیا۔انہوں نے ترکی کو متنبہ کرتے ہوئے کہا کہ ترکی مسلسل لوگوں کی زندگیوں کو خطرے میں ڈال رہا ہے۔وہ غیر قانونی تارکین وطن کو روکنے کی بجائے یونان کے خلاف پراپیگنڈہ کر رہا ہے۔

یونانی وزیر کے اس بیان کے جواب میں ترک حکام کی طرف سے فی الحال کسی قسم کا ردعمل نہیں دیا گیا۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے